جہاں سرمایہ کار اپنے سرمائے کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی میں اپنا کردار اداکرتے ہیں تو دوسری طرف محنت کش طبقہ بھی اپنا خون پسینہ ایک کرے،صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور

بدھ اپریل 22:07

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) خیبرپختونخوا کے وزیر برائے قانون ،پارلیمانی امور وانسانی حقوق امتیاز شاہد قریشی نے کہاہے کہ جہاں سرمایہ کار اپنے سرمائے کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی میں اپنا کردار اداکرتے ہیں تو دوسری طرف محنت کش طبقہ بھی اپنا خون پسینہ ایک کرے نہ صرف سرمایہ کار کے لئے منافع کماتے ہیں بلک ملک کی ترقی وخوشحالی میں بھی اپنا بھر پور حصہ ڈالتے ہیں۔

لہٰذا ان دونوں طبقات کی یکساں اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کے ہرملک میںایسی پالیسیا ںمرتب کی جاتی ہیں جو سرمایہ کاروں کے لئے سہولت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کے حالات میںبہتری لانے میںبھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے صوبہ میںسرمایہ کاری کے فروغ کے لئے صنعتی پالیسی وضع کی اور محنت کشوں اور باالخصوص کمسن محنت کشوں چائلڈ لیبر کے حقوق کے تحفظ کے لئے چائلڈ لیبر پالیسی وضع کرنے کے لئے صوبے میںاپنی نوعیت کاپہلا چائلڈ لیبر سروے کیاجارہا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوںنے منگل کے روز خیبرپختونخوا چائلڈ لیبر پالیسی 2018 کے مسودے کی تیاری کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لیبر خیام حسن، جج لیبر کورٹ مردان محمدجواد خان، متحدہ لیبر فیڈریشن کے صوبائی صدر محمد اقبال ،جنرل سیکرٹری پاکستان ورکز فیڈریشن ظہور اعوان، صوبائی صدر نیشنل لیبر فیڈریشن طلاء محمد، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے صغیر بخاری اور یونیسیف کے نمائندے سہیل احمد کے علاوہ صنعتکاروں اورصوبہ بھر سے آئے ہوئے لیبر تنظیموں کے صدور بھی تقریب میں شریک تھے۔

تقریب سے اپنے خطاب میںوزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے سیمینار کے انعقاد کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ اس مجلس کے دوران سرمایہ کاروں اورمحنت کشوں کو اپنی آراء کے بھر پور اظہار کاموقع فراہم کیاگیاہے جبکہ دوسرے شبعہ ہائے زندگی سے بھی اہل دانش نے اپنی قیمتی آراء اورتجاویز پیش کی ہیں جس کی بدولت قابل عمل اوربہتر پالیسیاں وضع کرنے میںمددملے گی۔

انہوں نے کہا کہ لیبر پالیسی اور چائلڈ پالیسی کے ابتدائی مسودات کی تیاری کے دوران کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان کے آئین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں اورمعاہدات کو پیش نظر کررکھتے ہوئے محنت کشوں کے بنیادی حقوق جیسے تنظیم سازی اور اجتماعی مفاد ،کام کی جگہوں پرمحنت وسلامتی کے امور، چائلڈ بانڈڈ لیبر اور منفی تفاوتوں کا خاتمہ ،مناسب اجرتوں اورسوشل پرٹیکشن کے ساتھ ساتھ لیبر انسپکشن کے نظام کی بہتری اور قوانین محنت کے دائرہ کار کی وسعت جیسے معاملات پرخصوصی توجہ دی گئی ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ قانون سازی اور پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ انتظامی امو ر کی مدمیں بھی صوبائی حکومت کی کاوشیں کسی سے کم اور پوشیدہ نہیں۔ امتیاز شاہد قریشی نے کہا کہ حکومت نے محکمہ محنت کی رسائی کی بہتری کیلئے صوبے کے مختلف اضلاع میںاس کے دفاتر قائم کئے جبکہ کارکردگی میںبہتری کے لئے ہر دفتر میں ورکرزفیسیلیٹیشن کاونٹر (Working Facilitation Counters) قائم کئے گئے ہیں۔

جو محنت کشوں اورمالکان کو ان کی دہلیز پر جاکر قوانین ،معروضی مسائل اور ان کے حقوق وفرائض سے متعلق ضروری جانکاری فراہم کرتے ہیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ چائلڈ لیبر اور بانڈ ڈ لیبر کے مسائل کی دیکھ بھال کے لئے محکمہ محنت میںخصوصی یونٹ کاقیام عمل میںلایاگیا ہے جو پاکستان میںاپنی نوعیت کاپہلا یونٹ ہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت اپنے طور پر ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ معاشرے کے ہر طبقہ کی بہتری کے لئے اقدامات کرے اور اس سلسلے میں اداروں میںاصلاحات پربھرپور توجہ دی گئی ہے جس کے اثرات نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں تاہم محدود وسائل کی وجہ سے معاشرے کے ہرطبقہ کاتعاون درکار ہوتاہے ۔

معاشرے کی ترقی وخوشحالی کے لئے تمام طبقات کو اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔