جعلی کاغذات کے ذریعے اراضی منتقل کروانے پر 14 ملازمین و دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج

بدھ اپریل 22:22

راولپنڈی5 2 ا پریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) محکمہ انسداد رشوت ستانی راولپنڈی ریجن نے سابق رکن صوبائی اسمبلی محمد صدیق خان مرحوم کے نام اراضی جعلی کاغذات کے ذریعے منتقل کرنے والے اراضی سینٹر فتح جنگ کے افسران اور عملے سمیت 14 ملازمین و دیگر افراد کے خلاف فراڈ ، دھوکہ دیہی اور جعلسازی کے الزام میں مقدمہ درجہ کر لیا گیا ہے جن میں سے 6 افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ترجمان کے مطابق ڈائر یکٹر اینٹی کرپشن راولپنڈی ڈویژن عارف رحیم کو مر حوم ایم پی اے کے صاحبزادے عامر صدیق کی طرف سے یہ درخواست موصول ہوئی تھی کہ اس کے والد محمد صدیق خان کے نام تقریبا ایک ہزار کنال اراضی کے جعلی کاغذات تیار کر کے اُسے فروخت کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

اس اطلاع پر کاروائی کر تے ہوئے ان ملزمان کے خلاف فراڈ، دھوکہ دہی کامقدمہ درج کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں ہیں جو غیر قانونی طور پر اراضی کی تقسیم میںملوث پائے گئے۔

عارف رحیم نے بتایا کہ اس سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر تحقیقات محکمہ انسداد رشوت ستانی کنول بتول ، سرکل آفیسر محکمہ انسداد رشوت ستانی اٹک غلام اصغر نے ابتدائی تحقیقات کے بعد ملزمان کے خلاف دفعہ تھانہ انٹی کرپشن ہیڈ کوراٹر میں 420 ، 468 ، 471 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے ان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ رریکارڈعبد المجید ، اے ایس سی آئی رانا نعمان، ایس سی او لیاقت علی، عامر علی بھٹی، ملک تصور حسین ، سہیل سر فراز، ملک تصور حسین ، امجد محمود ، محمد شاہد فاروق ، رسول گل ، شاہ زیب، محمد سلیم ، اور عامر اقبال شامل ہیں۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ جعلسازی کے زریعے زمین فروخت کرنے والے سہیل سرفراز کا اس اراضی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسے فروخت کرنے کا مجاز ہے۔ گرفتار ملزمان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ عبدالمجید، رانا نعمان، لیاقت علی ، عنامر علی بھٹی، ملک تصور حسین ، سہیل سرفراز شامل ہیں۔