بھارتی نوجوان چہرے پر ماسک پہن کر اور گلے میں سینتھو سکوپ لٹکا کر پانچ مہینے سے ڈاکٹر ہونے کا ڈراما کرتا رہا

بدھ اپریل 20:36

بھارتی نوجوان چہرے پر ماسک پہن کر اور گلے میں سینتھو سکوپ لٹکا کر پانچ ..

ایک 19سالہ بھارتی نوجوان گزشتہ پانچ ماہ سے   ملک کے ایک  بڑے میڈیکل انسٹی ٹیوشن میں ڈاکٹر بننے کا کامیاب ڈراما کر رہاتھا۔ عدنان خرم نامی اس نوجوان کے پاس  میڈیکل کی کسی قسم کی تعلیم نہیں تھی لیکن اس کے باوجود وہ صرف چہرے پر ماسک پہن کر اور گلے میں سینتھو سکوپ لٹکا کر  کئی ماہ سے ڈاکٹر بننے کا ڈراما کرتا رہا۔
کسی کو نہیں معلوم کہ جعلی ڈاکٹر بننے کے پیچھے عدنان کا محرک کیا ہے۔

عدنان آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے سینئر ڈاکٹروں کو  اپنے جوئنیر ہونے کے بارے میں بتاتا اور جونیئر ڈاکٹروں کومیڈیکل سٹوڈنٹ ہونے کے بارے میں بتاتا۔ عدنان ہسپتال کی سیاست میں  بھی اپنا کردار ادا کرنے لگا اور ہسپتال کے وٹس ایپ گروپ میں بھی شامل ہوگیا۔عدنان نے انسٹاگرام پر بھی خود کو ڈاکٹر عدنان خرم  لکھنا شروع کر دیا۔

(جاری ہے)


ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک  ایسوسی ایشن  کے صدر ڈاکٹر ہر جیت سنگھ نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ  عدنان ہر وقت  لیپ کوٹ اور سینتھو سکوپ پہنے رہتا۔ ڈاکٹر ہرجیت نے بتایا کہ عدنان نے مختلف لوگوں کو اپنے بارے میں متضاد اطلاعات دیں ، جس کی وجہ  سے ہسپتال کے ڈاکٹروں نے پولیس کو مطلع کردیا۔ اگلے دن  عدنان ڈاکٹروں کی ایک دوڑ میں حصہ لینے پہنچا تو پولیس نے  اسے دھوکہ دہی اور خود کو ڈاکٹر ظاہر کرنے کے  الزام میں  دھر لیا۔

عدنان نے پولیس کو بھی متضاد بیانات دئیے۔ پہلے اس نے بتایا کہ وہ ڈاکٹروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنا چاہتا تھا تاکہ اپنے گھر کے ایک بیمار شخص کا علاج کرا سکے۔ پھر اس نے کہا کہ اسے گلے میں سینتھو سکوپ لٹکا کر گھومنا اچھا لگتا تھا۔اسے لگتا تھا کہ اس طرح ایک دن وہ سچ مچ کا ڈاکٹر بن جائے گا۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس نوجوان کی دوائیوں کے بارے میں معلومات جان کر کافی متاثر ہوئے ہیں۔
دو سال پہلے فلوریڈا میں ایک 18سالہ نوجوان ملاکی بھی خود کو ڈاکٹر ظاہر کرنے کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ملایشیا کا ایک 25سالہ نوجوان یوٹیوب سے سیکھ کر اپنا دانتوں کا کلینک چلاتا رہا۔