جماعت اسلامی کا خیبرپختونخوا حکومت سے علیحدگی کا حتمی فیصلہ

دو تین دن میں حکومت سے علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کر دینگے، بجٹ کی منظوری میں حکومت کا ساتھ دینگے تاہم حکومت میں نہیں بیٹھیں گے،مشتاق احمدخان کی گفتگو

بدھ اپریل 22:39

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاہے کہ جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کاحتمی فیصلہ کر لیاہے جماعت اسلامی صوبائی بجٹ پاس کرانے میں حکومت کا ساتھ دیگی لیکن حکومت میں نہیں بیٹھے گی،ان ہائوس تبدیلی کی کوشش کی صورت میں بھی جماعت اسلامی تحریک انصاف کیساتھ ہو گی۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے المرکز اسلامی پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی کابینہ 27اپریل کو بن جائیگی جبکہ2مئی کو ایم ایم اے اسلام آباد میں قومی ورکرز کنونشن بھی منعقد کریگی۔انھوں نے کہا کہ ہم نے صوبائی حکومت سے علیحدگی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے ،ہم نے صوبائی حکومت کو تحریک انصاف کی درخواست پر مشروط طور پر جائن کیا تھا ۔

(جاری ہے)

حکومت سے علیحدگی پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے مشاورت کر لی ہے اور ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر بیٹھ کر پریس کانفرنس میں شائستگی سے علیحدگی کا اعلان کریں۔ہم حکومت میں 14نکاتی ایجنڈے کیساتھ شامل ہوئے تھے جس میں اسلامی فلاحی ریاست کا قیام،آئین پاکستان میں اسلامی تشخص کو قائم کرنے کیلئے دفعات کے عملی نفاز کی کوشش،خیبر پختونخوا میں کرپشن سے پاک اچھی طرز حکمرانی،قیام امن اور قبائلی علاقہ جات میں ڈرون حملوں کی بندش کیلئے کوشش،صوبے میں عوام کی صحت،،تعلیم ،سماجی بہبود اور حقوق خواتین کیلئے بھر پور اقدامات،،مہنگائی کو کنٹرول کرنے ،بیروزگاری کے خاتمے ،لوٹ مار اور کرپشن کی تحقیقات کیلئے بااختیار کمیشن جو وزیر اعلیٰ سمیت منتخب نمائندوں اور سرکاری افسران کا بلا امتیاز احتساب کرے،لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے صوبائی سطح پر بجلی کی پیداوار،حکومت سازی میں جماعت اسلامی کی کابینہ میں موثر نمائندگی ،حکومت کے دوران مالیاتی فیصلوں،،بجٹ سازی، اہم مناصب پر تعیناتی اور دیگر اہم فیصلوںمیں جماعت اسلامی کو اعتماد میں لینا ،ضمنی و بلدیاتی انتخابات ملکر لڑنے اور ضمنی انتخابات میں جماعت اسلامی کو خاطر خواہ نمائندگی دینااورعوام کو نچلی سطح پر بنیادی سہولیات دینے کیلئے بلدیاتی نظام میں فوری ترامیم شامل تھیں۔

انھوں نے کہا کہ دو تین دن میں حکومت سے علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کر دینگے تاہم صوبائی بجٹ پاس کرانے میں حکومت کا ساتھ دینگے اور اگر کسی نے ان ہائوس تبدیلی کی کوشش کی تو اس میں بھی صوبائی حکومت کیساتھ کھڑے ہونگے اور حکومت کی مخالفت نہیں کرینگے۔انھوں نے کہا کہ ہم اچھے طریقے سے حکومت سے علیحدگی چاہتے ہیں تاہم اگردوسری طرف سے الزامات لگائے گئے تو بھرپور دفاع کرینگے اور جواب بھی دینگے،شخصی اختلافات کی بنیاد پر کبھی بھی انتخابی مہم نہیں چلائیں گے۔انھوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں تخت پشاور کے حصول کیلئے دیگرجماعتیں باہر ہو چکیں اور اصل مقابلہ ایم ایم اے اور تحریک انصاف کے درمیان ہو گا۔