کوئٹہ شہر دہشت گردی کی زد میں ہے،، آئندہ انتخابات میں تبدیلی نظر آئیگی،آفتاب احمد خان شیر پائو

بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی اگر جمہوری انداز میں ہوئی تو بہتر سمجھتا ہوں، قومی وطن پارٹی کے سربراہ کا شمولیتی تقریب سے خطاب

بدھ اپریل 23:04

کوئٹہ شہر دہشت گردی کی زد میں ہے،، آئندہ انتخابات میں تبدیلی نظر آئیگی،آفتاب ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) قومی وطن پارٹی کے سربراہ سابقہ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پائو نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں تبدیلی نظر آئے گی بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی اگر جمہوری انداز میں ہوئی تو بہتر سمجھتا ہوں، کوئٹہ شہر دہشت گردی کی زد میں اور اس سے کوئٹہ میں رہنے والے تمام اقوام متاثر ہے پشتون بلوچ اور ہزارہ عوام مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرے اور کوئٹہ کو ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنائے ،،اٹھارویں ترمیم کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اگر تبدیلی کی گئی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے پشتون اور بلوچ عوام کودرپیش مسائل کے لئے مل کر آواز اٹھانا ہو گی، فاٹا خیبر پختونخوا انضمام کی مخالفت کرنے والے پشتونوں کے خیر خواہ نہیں ہے ،،عمران خان نے سیاست میں شائستگی ختم کر دی یوٹرن کی سیاست سے ملک میں انتشار پھیلے گا عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر عوام کو بے وقوف بنایا آئندہ انتخابات میں جمہوری قوتوںکو ہی کامیابی ملے گی ہمسایہ ممالک کیساتھ جب تک تعلقات بہتر نہیں ہونگے اس وقت تک خطے میں امن نہیں آئے گا ،یہ بات انہوں نے بدھ کے روزمقامی ہال میں شمولیتی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہی، اس موقع پر صوبائی آرگنائزر سمیع اللہ لونی، جلیل مردانزئی، امان بازئی، شیر محمد درانی، عبیدمندوخیل، وحید مروانی، روح اللہ داوی، بخت محمد کاکڑ اور جلیل بازئی نے بھی خطاب کیا ،اس موقع پر سینکڑوں افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو کر قومی وطن پارٹی میں شمولیت اختیار کی،انہوں نے کہا ہے کہ کامیاب جلسے پر کارکنوں اور عہدیداروں کو مبارکباد پیش کر تاہوں،،کوئٹہ میں ہونیوالے سانحات کی مذمت کر تا ہوں یہ باعث تشویش ہے،انہوں نے کہا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کی لہر نے خیبر پختونخو اور بلوچستان کی صورتحال کو مزید گھمبیر بنایا ہے جب تک امن نہیں ہوگا ترقی نہیں ہو گی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ،20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہو تا تو آج یہ حالات نہ ہو تے ،پشتونوں اور بلوچوں کو عزت دینے سے ہی ملک ترقی کرے گا فیڈریشن میں تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا ہر ایک کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے یہی جمہوریت کا حسن ہے ملک بالخصوص بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے صوبے میں جو بھی حکومت رہی اس نے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا ،آئندہ انتخابات میں تبدیلی نظر آئے گی بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی اگر جمہوری انداز میں ہوئی تو ہم اس کو بہتر سمجھتے ہیں ملک میں نظریاتی کارکنوں کواہمیت نہیں دیتے قومی وطن پارٹی ہی نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹ دے گی یوٹرن کی سیاست سے ملک میں انتشار پھیلے گا ،،عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگا تے ہیں مگر اپنی جماعت میں تمام سیاسی جماعتوں کے افراد کو اکٹھے کئے ہوئے ہیں ،،عمران خان کا سیاست میں آنے سے شائستگی ختم ہو گئی عمران خان کو امید کی کرن سمجھنے والے مایوس ہے وفاق میں جاری کشمکش کے باعث چھوٹوں صوبوں کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے صوبوں اور مرکز کے درمیان نیا عمرانی معاہدہ ہونا چا ہئے تاکہ عوام کے مسائل حل ہو سکے ،،اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کسی صورت قابل قبول نہیں ہمسائیہ ممالک کیساتھ تعلقات بہتر نہ ہونے سے مسائل پیدا ہونگے ،انہوں نے کہا ہے کہ قومی وطن پارٹی قومی مسائل کیساتھ ساتھ پشتونوں کے مسائل پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔