وفاقی کابینہ نے پاک چین ایف ٹی اے کے تحت خصوصی فورس کی تربیت کے معاہدے، انٹیلیکچوئل پراپرٹی ٹریبونل کے پریزائیڈنگ آفیسرکی تعیناتی، ان لینڈ ریونیو اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین کی تعیناتی اور لیگل پریکٹیشنر اور بار کونسل ایکٹ 1973ء میں ترمیم کی منظوری دیدی

بدھ اپریل 23:22

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) وفاقی کابینہ نے پاک۔۔چین ایف ٹی اے کے تحت خصوصی فورس کی تربیت کے معاہدے، انٹیلیکچوئل پراپرٹی ٹریبونل کے پریزائیڈنگ آفیسرکی تعیناتی، ان لینڈ ریونیو اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین کی تعیناتی اور لیگل پریکٹیشنر اور بار کونسل ایکٹ 1973ء میں ترمیم کی بھی منظوری دیدی ہے۔ بدھ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی و صوبائی سالانہ ترقیاتی سکیموںکے امور اور بجٹ تیاری کو حتمی شکل دینے اور منظوری سے متعلقہ امورکا بھی جائزہ لیا گیا۔کابینہ نے پاک۔۔چین ایف ٹی اے کے تحت خصوصی فورس کی تربیت کے معاہدے، انٹیلیکچوئل پراپرٹی ٹریبونل کے پریزائیڈنگ آفیسرکی تعیناتی، وفاقی کابینہ کی ان لینڈ ریونیو اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین کی تعیناتی اور لیگل پریکٹیشنر اور بار کونسل ایکٹ 1973ء میں ترمیم کی منظوری دیدی۔

(جاری ہے)

اجلاس نے ادویات کے لائسنس، رجسٹریشن، تشہیر اور جموں وکشمیر ایڈمنسٹریشن آف پراپرٹی رولز میں مجوزہ ترامیم کے بارے میں قانونی امور کے حوالہ سے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی توثیق کی۔ کابینہ نے کابینہ کمیٹی توانائی میں 2 اور 3 اپریل 2018ء میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی جبکہ پاک نائجیریا فضائیہ میں خصوصی فورسز کی تربیت کے معاہدے کی بھی منظوری دیدی گئی۔

اجلاس میں سیاسی و معاشی صورتحال سمیت 18 نکاتی ایجنڈہ شامل تھا۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ محصولات کی وصولی اور آئندہ ٹارگٹ کوحتمی شکل دی جائے۔ کابینہ نے پاک۔۔چین الیکٹرانک اوریجن ڈیٹا کے دوطرفہ تبادلے کے معاہدے، کابینہ کی لیگل پریکٹیشنر اور بار کونسل ایکٹ 1973ء میں ترمیم، وفاقی کابینہ کی بورڈ آف انوسٹمنٹ کی تنظیم نو، کابینہ نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو تحلیل کرنے کی منظوری دیدی۔

اس کے علاوہ کابینہ کی توانائی کمیٹی اور قانونی امور نمٹانے کی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق اور کامران بشارت مفتی کی بطور پریزائیڈنگ آفیسر انٹیلیکچوئل پراپرٹی ٹریبونل، غلام مصطفی میمن کی بطور ایڈمنسٹریشن جج خصوصی عدالت کراچی تعیناتی اور شاہد مسعود منظر کی بطور چیئرمین اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو تعیناتی کی منظوری دیدی گئی۔ اس کے علاوہ کابینہ نے پاکستان اور بیلا روس کے درمیان کسٹم ڈیٹا ایکسچینج معاہدے، پاکستان اور نیپال کے ایڈیٹر جنرلز کے درمیان تعاون کے معاہدے اور پاک۔

تاجک آڈیٹر جنرل میں پبلک سیکٹر آڈیٹنگ کیلئے تعاون کی یادداشت کی منظوری بھی دیدی۔ کابینہ نے صنعتوں اور پیداوار کی وزارت کے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو تحلیل کرنے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔