خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے افغانستان کے ساتھ امن اور محبت کا رشتہ قائم کرنا ہوگا، ایمل ولی خان

بدھ اپریل 23:28

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے افغانستان کی حیثیت تسلیم کر کے اس کے ساتھ امن اور محبت کا رشتہ قائم کرنا ہوگا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں دوسری باچا خان امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ پختون سرزمین اور دنیا کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے جب تک پختونخوا اور فاٹا میں امن قائم نہیں ہوگا دنیا میں امن نہیں آ سکتا ، ایمل ولی خان نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سیاسی جماعتوں سمیت ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز ایک 20نکاتی دستاویز پر متفق ہوئے لیکن بد قسمتی سے وہ نیشنل ایکشن پلان مرکزی و صوبائی حکومتوں کی مصلحت کی نذر ہو گیا اگر ’’نیپ‘‘ پر من وعن عمل کیا جاتا تو حالات یکسر مختلف ہوتے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں صوبے کے حقوق کے تحفظ کیلئے 18ویں ترمیم حاصل کی اور صوبے کو شناخت دی لیکن آج اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کی اے این پی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ پختونوں کی یکجہتی یقینی بنانے کیلئے فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں فوری طور پر ضم کیا جائے۔

(جاری ہے)

باچا خان کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ قوم کو حقیقی سیاست باچا خان بابا نے دی اور ان کے نظریات کی روشنی میں ہی نوجوان نسل کو اپنی منزل مل سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں باچا خان بابا کے نظریات کے تحت امن چاہتے ہیں،،ووٹ کو عزت دو کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس بارے انہوں نے کہا کہ ملک میں سب سے پہلے خدائی خدمت گاروں کی حکومت قائم ہوئی جو عوام کے ووٹوں کے مرہون منت تھی جو بات آج نواز شریف کر رہے ہیں وہ اے این پی روز اول سے کرتی آئی ہے ،انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلیں تو کامیابی ان کا مقدر ہو گی۔