پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے پانچ سال کامیابی اور مواقع کی کہانی کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

بدھ اپریل 23:29

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے پانچ سال کامیابی اور مواقع کی کہانی کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک پلاننگ، ڈویلپمنٹ اور ریفارمز حسن دائود نے کہا کہ سب سے اہم کامیابی توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے اور ہمیں اس کامیابی کا جشن منانا چاہئے۔ سی پیک نہ صرف امید دلا رہا ہے بلکہ تبدیلی بھی لا رہا ہے اور ہمیں اس تبدیلی کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔

ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد سلہری نے کہا کہ چین کا ایک خطہ ایک سڑک اقدام پوری دنیا میں مشترکہ شراکت کا ایک منصوبہ ہے، چین دنیا کوترقی اور خوشحالی کا روڈ میپ دے رہا ہے، ہمیں سی پیک کو حقیقی گیم چینجر بنانے کیلئے دیگر ہمسایہ ممالک کے کردار کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ایس ڈی پی آئی کے ڈائریکٹر ریسرچ شکیل احمد رامے، چین کے ڈپٹی ہیڈ مشن لی جی ہان ژائو، جنرل (ر) مسرور، چین کی پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسر تنگ منگ شن اور ڈاکٹر وقار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مقامی سطح پر اصلاحاتی ڈھانچہ نہیں بن جاتا اس وقت تک ہم سی پیک کے ثمرات حاصل نہیں کر سکتے۔ عصر حاضر کی معیشت کے نمو کے زیادہ اور مختلف ذرائع ہیں۔ اس حکومت، نگران اور آئندہ حکومت کیلئے جاری خسارہ پر قابو پانا، سرکولر ڈیبٹ اور توانائی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانا ایک چیلنج سے کم نہیں۔