چیئرمین واٹرکمیشن کی ہدایت پر کمشنر سکھر کا انجینئرزکے ہمراہ روڈز اور ڈرینیج سکیموں کا دورہ

بدھ اپریل 23:36

سکھر۔25اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) چیئر مین سندھ واٹر کمیشن جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کی ہدایات پر کمشنر سکھر ڈویژن ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ نے سکھرکے قریشی گوٹھ اور گلشن اقبال کے علاقوں میں جاری ڈرینج اور روڈز کی مختلف اسکیموں کا دورہ کیا ،اس موقع پر میونسپل کارپوریشن سکھر ،ہائی ویز اور پبلک ہیلتھ محکموں کے انجینئرزبھی ان کے ہمراہ تھے۔

کمشنر سکھر نے اس موقع پر سندھ سمال انڈسٹریز سے گلشن اقبال تک 16کلو میٹر طویل روڈ کی بحالی اور بہتری کی اسکیم کا کام مکمل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ انجینئرز سے استفسار کیا اور مسئلے کا فوری حل تلاش کرنے کی ہدایت کی ۔کمشنر سکھر نے بتایا کہ 278ملین روپے کی لاگت سے اس اسکیم پر 126.95ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں اور اس اسکیم کو 31نومبر 2017تک مکمل ہونا تھا۔

(جاری ہے)

کمشنر سکھر نے کہا کہ غلط پلاننگ اور رابطے کے فقدان کے باعث اسکیم تاخیر کا شکار ہوئی ہے جس کی وجہ سے علاقہ مکین تکلیف کا سامنا کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ علاقے میں جاری تمام اسکیموں کے تفصیل دیے جائیں اور نا مکمل کام کے باوجود ادائیگی کرنے والے انجینئرز کے نام دیے جائیںتاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے کمشنر سکھر نے میونسپل افسران کو ہدایت کی کہ روڈ اور42انچ ڈایا ڈرینج لائین کی غلط ڈزائننگ اور غلط پلاننگ سے بنائے گئے مین ہولزاور نالوں کی دوبارہ ڈزائننگ کی جائے تاکہ واٹر سپلائی اور ڈرینج کی لائنیں آپس میں نہ مل سکیں اور گندہ پانی روڈ پر جمع نہ ہو ، جبکہ نالوں کی بھل صفائی کا کام جلد مکمل کیا جائے ۔

اس موقعے پر پبلک ہیلتھ کے انجینئر شمس الدین شیخ نے بتایا کہ آر سی سی سیوریج لائین کے ہر80فٹ کے فاصلے پر ایک مین ہول رکھا گیا ہے ،10مین ہولز کی سطح کو اوپر بڑھانے سے مسئلہ حل ہونے کا امکان ہے ،جبکہ نالوں سے سلٹ نکالنے کا کام بھی جاری ہے ۔کمشنر سکھر ڈویژن نے میونسپل سکھر کے افسران کو ہدایت کی کہ پانی کے غیر قانونی کنکشن فوری طور پر منقطع کرکے رپورٹ دی جائے اور ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کر تے ہوئے ان کے خلاف کرمنل کیس داخل کیے جائیں ۔انہوں نے انجینئرز کو ہدایت کی کہ تمام اسکیموں کو آپس میں ملانے کے لئے کو آرڈینیشن کو بہتر بنایا جائے اور ڈپلیکیٹ اسکیموں کی شکایات کو دور کیا جائے۔