اسلام آباد، آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دے دی گئی

قومی ترقیاتی بجٹ 20 کھرب43 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز صوبوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 10 کھرب 13 ارب روپے، وفاقی ترقیاتی بجٹ میں ایوی ایشن کے لئے 4 ارب 64 کروڑ روپے مختص ،سرمایہ کاری بور ڈکیلئے 12کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجاویز دی گئی

جمعرات اپریل 00:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دے دی گئی آئندہ مالی سال کا قومی ترقیاتی بجٹ 20 کھرب43 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے بجٹ تجاویز دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت کا ترقیاتی بجٹ 40 کھرب 30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز کی ہے صوبوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 10 کھرب 13 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز کی ہے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں ایوی ایشن کے لئے 4 ارب 64 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے جبکہ سرمایہ کاری بور ڈکیلئے 12کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجاویز دی گئی ہے۔

کا بینہ ڈویژن کے لئے 1 ارب 11 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز کی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لئے 15 ارب 23 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے اور موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے لئے 80 کروڑ 26 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز کی ہے۔

(جاری ہے)

بجٹ دستاویز کے مطابق کامرس ڈویژن کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کرنے کی تجویز کی گئی ہے اور مواصلات ڈویژن کے لئے 14 ارب 48 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔

دفاع ڈویژن کے لئے 64 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے جبکہ دفاعی پیدا وار ڈویژن کے لئے 2 ارب 81 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے اقتصادی امور ڈویژن کے لئے 7 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اسٹبلیشمنٹ ڈویژن کے لئے 17 کروڑ 54 لاکھ مختص کرنے کی تجویز کی ہے ۔ وفاقی تعلیم و تربیت ڈویژن کیلئے 4 ارب 33 کروڑ روپے جبکہ فنانس ڈویژن کے لئے 18 ارب 5 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے اس طرح ایجوکیشن کمیشن کے لئے 46 ارب 88 کروڑ روپے مختص کی گئی ہے۔

وفاقی ترقیاتی بجٹ میں ہاؤسنگ ورکس ڈویژن کے لئے 5 ارب 43 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے صنعت و پیداوار ڈویژن کے لئے 1 ارب 77 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ۔ آئی ٹی وٹیلی کام ڈویژن کے لئے 3 ارب 4 کروڑ 83 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز جبکہ بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے لئے 3 ارب 55 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے داخلہ ڈویژن کے لئے 24 ارب رو پے مختص کرنے کی تجویز جبکہ امور کشمیر وگلگت بلتستان ڈویژن کے لئے 47 ارب 30کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

قانون و انصاف کے لئے 1 ارب 50 لاکھ روپے مختص اس طرح میری ٹائم امور ڈویژن کے لئے 10 ارب 11 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ناکو فکس کنٹرول ڈوی-ژن کے لئے 25 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پنشن فوڈہ سیکیورٹی ڈویژن کے لئے 1 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے قومی ہیلتھ سروسز ڈویژن کے لئے 25 ارب 3 کروڑ 44 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

جبکہ پاکستان نیو کلیئر ایگو لیٹری اتھارٹی کے لئے 30 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے لئے 94 کروڑ31 لاکھ روپے مختص جبکہ منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات ڈویژن کیلئے 28 ارب 15 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے آئندہ مالی سال پوسٹل سروسز ڈویژن کیلئے 37 کروڑ ریلوے ڈویژن کے لئے 40 ارب مذہبی امور بین المذاہب ہم آہنگی ڈویژن کے لئے 3 کروڑ 60لاکھ روپے اور ریونیو ڈویژن کے لئے 2 ارب 55 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

بجٹ میں سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ ڈویژن کے لئے 2 ارب 40 کروڑ رروپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال ۔۔ کے لئے 4 ارب 70 کروڑ ، ٹیکنالوجی انڈسٹری ڈویژن کے لئے 28 کروڑ آبی وسائل ڈویژن کے لئے 79 ارب 50 کروڑ جبکہ این ایچ اے کے لئے 305 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کے عالمی ، دیرپا، ترقی اہداف کے لئے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ خصوصی و فاقی ترقیاتی پروگرام کی مد میںکوئی رقم مختص نہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔