تعلیم کے شعبے میں بہتری کیلئے موجودہ حکومت نے 900 بلین روپے خرچ کئے، صوبوں کو ڈبل بجٹ فراہم کیا

وفاقی وزیر تعلیم بلیغ الرحمان کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

جمعرات اپریل 00:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) وفاقی وزیر تعلیم بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے موجودہ حکومت نے 900 بلین روپے خرچ کیے ہیں۔ بدھ کو ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے علاقوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صوبوں کو ڈبل بجٹ فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب نے تعلیم کے شعبے میں سب سے اہم کردار ادا کیا اور تعلیم کے شعبے میں اچھی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جو خوش آئند بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تعلیمی اداروں میں سہولیات کی عدم دستیابی کا نوٹس لیا اور ان سہولیات کو یقینی بنایا اور تعلیمی اداروں میں فرنیچر سمیت واش رومز کی سہولت کو بھی یقینی بنایا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ کو ٹرانسپورٹ کی جدید سہولت سمیت متعدد منصوبوں میں حمایت کی ہے۔ کوئٹہ دھماکے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک المناک واقعہ ہے جس میں کئی افراد نے اپنی جانیں کھو دیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا اور ملک سے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے پالیسی ترتیب دی۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی مخلصانہ کوششوں کے باعث بلوچستان کے علاقوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو گئی ہے۔ بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2013ء کے انتخابات میں اقتدار میں آنے کے بعد متعدد شعبوں پر توجہ مرکوز کی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا۔