ترکی میں 13 صحافیوں کودہشت گردی کے الزام میں جیل،تین رہا

سزا یافتہ صحافی اس وقت آزاد ،فیصلے کے خلاف اپیل دائر، بھر میں آزادیِ صحافت کے حوالے سے تنقید

جمعرات اپریل 12:18

انقرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) ترکی میں عدالت نے 13 صحافیوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیل کی سزا سنادی ،سزا پانے والے صحافیوں کے علاوہ دیگر تین صحافیوں کو بری کر دیا گیا ہے۔ سزا یافتہ صحافی اس وقت آزاد ہیں اور انھوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے،اس فیصلے کے بعد دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کے حوالے سے تنقید شروع ہو گئی ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق ان صحافیوں کی تعلق ترکی کے جمہوریت اخبار سے ہے جس نے رجب طیب اردوغان کی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ان تمام صحافیوں کو جولائی 2016 میں ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔سزا پانے والے صحافیوں میں ملک کے چند نامور مبصرین شامل ہیں جن میں اخبار کے مدیر اعلی مراد سبانکو، کالم نویس قادری گرسیل اور کارٹونسٹ موسی کارت شامل ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ جمہوریت اخبار کے چیئرمین آکن اتالے کو سات سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ وہ 500 پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہیں۔واضح رہے کہ جمہوریت اخبار 1924 میں قائم کیا گیا تھا اور ملک میں صحافتی اداروں میں سرکاری مداخلت کے باوجود اس نے آزادنہ موقف اختیار کیا تھا جو کہ ترک صدر اردوغان کا ناپسند تھا۔ادھرصحافیوں کے حقوق کی تنظیم کمیٹی برائے تحفظ صحافی (سی پی جی) نے بھی اس فیصلے کے بعد ترک حکومت پر آزادی صحافت سلب کرنے کا الزام لگایا اور سزا یافتہ صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :