امریکہ،روس اورچین صحافت پر حملے کررہے ہیں ،رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز

یورپ سمیت دنیا بھر میں میڈیاپرحملے کی وجہ سے عالمی سطح پر جمہوریت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں،رپورٹ

جمعرات اپریل 12:24

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرزنے کہاہے کہ یورپ میں عوامیت پسند سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ہی صحافیوں کے لیے محفوظ ترین سمجھے جانے والے براعظم یورپ میں بھی میڈیا کی آزادی متاثر ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میڈیا واچ ڈاگ رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے جاری کردہ پریس فریڈم انڈیکس 2018 میں بتایا گیا کہ یورپ سمیت دنیا بھر میں صحافیوں اور میڈیا مخالف جذبات میں اضافے کی وجہ سے عالمی سطح پر جمہوریت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

اس تازہ انڈیکس میں یہ بھی بتایا گیا کہ براعظم یورپ میں اب بھی میڈیا کو باقی دنیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ آزادی حاصل ہے تاہم گزشتہ برس کے دوران یورپ میں میڈیا کی آزادی کی صورتحال واضح طور پر خراب ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

دنیا کے ایسے پانچ ممالک جہاں گزشتہ برس صحافت اور میڈیا کی آزادی شدید متاثر ہوئی، ان میں چار یورپی ملک بھی شامل ہیں۔ مالٹا، سلوواکیہ، چیک جمہوریہ اور سربیا پریس فریڈم کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں طور پر نیچے چلے گئے۔

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے مالٹا میں صحافتی ذمہ داریاں نبھانے کے دوران قتل کر دیے جانے والے دو صحافیوں کا بھی خاص طور پر ذکر کیا ۔ مالٹا اس فہرست میں اٹھارہ درجے تنزلی کے بعد 65ویں نمبر پر آ گیا ہے جب کہ چیک جمہوریہ بھی گیارہ درجے تنزلی کے بعد اب عالمی درجہ بندی میں 34ویں نمبر پر ہے۔علاوہ ازیں اس عالمی ادارے نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ متعدد یورپی ممالک میں دائیں بازو کی عوامیت پسند سیاست کرنے والی جماعتوں کی مقبولیت میں مسلسل اضافے کے باعث یورپ میں میڈیا کی آزادی کو لاحق خطرات میں اضافے کا امکان ہے۔

ادارے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،، روس اور چین پر میڈیا مخالف بیانیے کو فروغ دینے اور عملی طور پر صحافتی آزادی پر حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔آر ایس ایف کی جرمن شاخ کے سربراہ کرسٹیان میہرنے کہاکہ مشرقی اور وسطی یورپی ممالک کی صورتحال اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایسے کئی ممالک کو پیش از وقت یورپی یونین میں شامل کر لیا گیا تھا جہاں ابھی جمہوری اقدار ناپختہ ہیں۔