عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان نے کُتے کی وجہ سے اختلافات کی کہانی بیان کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات اپریل 12:30

عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان نے کُتے کی وجہ سے اختلافات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 اپریل 2018ء) : پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان نے عمران خان کے پالتو کتوں اور ان کتوں کی وجہ سے ہونے والے اختلافات کی کہانی بیان کر دی۔ ریحام خان کا کہنا تھا کہ کارگل کی جنگ سمیت ملک میں ہونے والی مختلف چیزوں کا ذمہ دار سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

پرویز مشرف پر کیسز چلے تو وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے لیکن جاتے جاتے عمران خان کو کچھ چیزیں وراثت کر گئے۔ ریحام خان نے اپنے آرٹیکل میں کہا کہ میں ان ہی چیزوں کا ذکر کروں گی جن کا پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان خود بھی اعتراف کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کی دو پیداواریں ہیں، ان میں سے ایک جہانگیر ترین ہیں جو نا اہلی کے باوجود پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا کردار ادا کر رہے ہیں اور 29 اپریل کو پی ٹی آئی کے لاہور میں ہونے والے جلسے کے بجٹ اور اخراجات کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

دوسرا علیم خان ہیں جن کو ڈر ہے کہ جہانگیر ترین کے بعد اب ان کی نا اہلی کی باری ہے۔ لیکن ان دونوں نے ہی خبروں میں اتنی جگہ نہیں بنائی جتنی عمران خان کے پالتو کتے شیرو نے بنائی۔ مجھے بتایا گیا کہ جنرل مشرف اپنے کتوں کو ائیر مارشل اور تحریک استقلال کے رہنما اصغر خان کے پاس چھوڑ کر گئے ہیں۔ ان میں سے ایک پالتو کُتا عمران خان کو دے دیا گیا۔

میری شیرو سے ملاقات 2013ء میں ہوئی،مجھے یاد ہے کہ شیرو مجھ سے ملاقات کے بعد جلد ہی مجھ سے مانوس ہو گیا تھا لیکن اس کے کچھ عرصہ قبل ہی شیرو مر گیا۔ جب میں بنی گالہ میں شفٹ ہوئی تو میں اپنے ساتھ جرمن نسل کا ایک کُتا میکسمس لائی، عمران خان کو اس سے مانوس ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور پھر یوں ہوا کہ عمران خان نے اپنے تمام کُتوں کو چھوڑ کر میکسمس نامی کُتے کو اپنے ساتھ اپنے بیڈ روم میں سُلانے کا شرف بخشا،جب میری اور عمران خان کی علیحدگی ہوئی تو میکسمس میرے ساتھ ہی واپس آگیا۔

ریحام خان نے کہا کہ اب یہ کُتا کون ہے جو عمران خان کی ازدواجی زندگی میں تلخی کا باعث بن رہا ہے اور پاکستانی میڈیا میں خبروں کی زینت بنا ہوا ہے؟ ریحام خان نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ شیرو کا بچہ ''موٹو'' ہے ، لیکن ''موٹو'' گھر کے اندر رہنا زیادہ پسند نہیں کرتا۔ ریحام خان نے کہا کہ یہ کُتا وہ ہو سکتا ہے جسے عمران خان کے پسندیدہ پی ٹی آئی اُمیدوار زرتاج گُل ان کے لیے لائے تھے۔

لیکن اس کُتے کا کوئی خاص نام نہیں تھا۔ جب بھی کُتا عمران خان کے آس پاس ہوتا تو عمران خان سیٹی بجاتے اور اسے ذہن میں آنے والا کوئی بھی نام دے دیتے، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ازدواجی زندگی میں مسائل پیدا کرنے والا موٹو، پتلو یا بھالو ہو سکتا ہے لیکن برائے مہربانی شیرو کی روح کو آرام کرنے دیجئیے۔ عمران خان اچھے اور خوبصورت کُتوں کے شوقین ہیں، ایک کُتے کو رکھنے پر میں نے عمران خان سے اصرار کیا تھا ، جسے وہ پدو کے نام سے بُلاتے تھے، اس کُتے کے پیدائشی طور پر دونوں کان کٹے ہوئے تھے۔

میں نے اسے بچانے کی پوری کوشش کی ، وہ سب کیا جو میں کر سکتی تھی لیکن ایک دن پدوکا دن بھی آگیا۔ ایک دن ہم رات کے کھانے سے واپس آ رہے تھے اور عمران خان نے ہمیشہ کی طرح تیز رفتارمیں گاڑی چلائی اور پدو پر چڑھا دی۔ اس رات کے اندھیرے میں میں نے صرف اس بے بس کُتے کی چیخ سنی تھی۔ اس کے بعد میں دنگ رہ گئی اور اسی خاموشی میں کمرے کے اندر داخل ہو گئی۔

مجھ سے نہ تو کُتے کے بارے میں کوئی بات ہوئی اور نہ ہی مجھ میں اتنی ہمت تھی کہ میں اسے دیکھ سکتی۔ خوش قسمتی سے پدو چوٹ لگنے کے باوجود بچ گیا لیکن اس کے بعد عمران خان نے اسے گھر سے نکال دیا۔ شیرو سے قبل ایک اور خوبصورت کُتا تھا جو پانی کی کمی کی وجہ سے مر گیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عمران خان صبح کی سیر کو نکل گئے اور کُتے سے متعلق بالکل بھول گئے تھے۔

ریحام خان کا یہ آرٹیکل ان کی آنے والی کتاب سے لیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گذشتہ دو تین روز سے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان اور ان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کے تعلقات خراب ہونے اور بشریٰ بی بی کے میکے جانے کی خبریں گردش کر رہی تھیں ، کہا جا رہا تھا کہ ان کے تعلقات گھر میں موجود کتوں کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں۔ ان خبروں سے متعلق گذشتہ روز پی ٹی آئی رہنما نعیم الحق نے تردید بھی کی اور کہا کہ یہ تمام خبریں بےبنیاد ہیں کیونکہ بشریٰ بی بی تو بنی گالہ میں ہی موجود ہیں۔