قرض معافی کیس،

چیف جسٹس کا ایک ہفتے میں قرض معافی کی سمری بناکر پیش کرنے کا حکم

جمعرات اپریل 12:53

قرض معافی کیس،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے قرض معافی کیس کی سماعت کے دوران ایک ہفتے میں قرض معافی کی سمری بناکر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر معاف کیے گئے قرضے واپس کروائیں گے،اگر قرضے واپس نہیں کیے تو مقروضوں کے صنعتی یونٹس ضبط کرلیے جائیں گے، پرانے دبے ہوئے مقدمات کو نکلوا رہا ہوں، سیاسی بنیادوں پر بھی قرضے معاف کئے گئے۔

جمعرات کوسپریم کورٹ میں قرض معافی کیس کی سماعت ہوئی۔ جس میں درخواست گزار نے کہا کہ نواز شریف،، بے نظیر بھٹو،، جونیجو، یوسف رضا گیلانی،، چوہدری برادران نے بھی قرضے معاف کروائے۔ نیشنل بنک کے وکیل نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر بتایا کہ عدالت نے بنک کے قرضے معاف کروانے کی تحقیقات کے لئے کمیشن تشکیل دیا تھا،اسٹیٹ بنک کا سرکلر جاری ہونے کے بعد بنک کے قرضہ جات معاف کئے گئے، عدالت جسٹس جمشید کی رپورٹ پر فیصلہ کرے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ 54 ارب روپے کے قرضے معاف کروائے گئے۔ وکیل نے کہا کہ عدالتی کمیشن نے 54 ارب کے قرضوں کی معافی کو ماضی کا قصہ قرار دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پرانے دبے ہوئے مقدمات کو نکلوا رہا ہوں، سیاسی بنیادوں پر بھی قرضے معاف کئے گئے، کسی جگہ فریقین نے سمجھوتہ بھی کر لیا ہوگا، نیشنل بینک نے کئی ارب کے قرضے معاف کیے، کمیشن کی رپورٹ آنے پر مقدمے کی کارروائی نہیں ہوئی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 223 قرضہ معافی کے مقدمات مشکوک ہیں۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر معاف قرضے واپس نکلوائیں گے، اگر قرضے واپس نہیں کیے تو مقروضوں کے صنعتی یونٹس ضبط کرلیے جائیں گے، رقم نہیں تو اثاثہ ریکور کرلیں گے، ایک ہفتے میں قرض معافی کی سمری بناکردیں، ابھی تو یہ دیکھنا ہے اس کیس کو چلانا کیسے ہے، 2007 سے یہ معاملہ زیرالتوا ہے۔