نیپال اوربھارت کو سمندری راستے کے ذریعے سڑک سے جوڑنے کا منصوبہ

آبی راستے سے سامان اور سیاحوں کو چھوٹے جہازوں کے ذریعے بھیجے جائیں گے،بھارتی آبی راہ داری اتھارٹی

جمعرات اپریل 13:06

پٹنہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) بہار میں آبی راستے کو فروغ دیکر لوگوں کو مستفید کرنے کی سمت میں وزارت جہاز رانی کے تحت ہند بین الممالک آبی راہ داری اتھارٹی نے کام شروع کردیا۔اس سلسلے میں پٹنہ سے گنڈک ندی کوجوڑتے ہوئے بالمیکی نگر تک آبی رہگزر فروغ دی جائیگی۔تقریباً 300 کلو میٹر طویل راستے میں ندی کو محفوظ بناکر 700ٹن وزنی جہاز چلانے کا منصوبہ ہے۔

اس سے جہاں سامان کا لانا لیجانا آسان ہوگا وہیں لوگ قدرت کے حسین مناظرسے لطف اندوز ہوتے ہوئے بہار کے راستے نیپال کے ہمالیائی علاقوں تک پہنچ سکیں گے۔ گائے گھاٹ واقع اتھارٹی پٹنہ کے ڈائریکٹر اے کے مشرا نے اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اس راستے پر چینل مارکنگ کا کام جاری ہے۔ گنڈک میں بالمیکی نگر تک آبی راہ ہموار ہوتے ہی پٹنہ کے گائے گھاٹ میں واقع بندرگاہ سے جڑجائیگا۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں ہلدیہ اور بنارس آبی راستے سے سامان اور سیاحوں کو چھوٹے جہازوں کے ذریعے بھیجے جائیں گے۔ بالمیکی نگر اور ڈومریا گھاٹ پر جہازوں کے رکنے کیلئے بندرگاہ قائم کی جائیگی۔ گنڈک ندی کے کنارے اور ہمالیہ کے قریب آباد بالمیکی نگر میں بجلی کی پیداوارکیلئے گنڈک ندی پر بندھ قائم ہے جس کا افتتاح پنڈت جواہر لال نہرونے کیا تھا۔دوسری جانب پٹنہ کے گاندھی گھاٹ کے سامنے کالو گھاٹ پر ٹرمینل تعمیر کرکے کولکتہ اور بنارس سے آنے والے کنٹینرز کو یہاں تک پہنچانے کے منصوبے پر اتھارٹی سے مذاکرات جاری ہیں۔ ٹرمینل کی تعمیر سے جہازوں کے ذریعے سامان والے بڑے بڑے کنٹینرز کو ٹرک میں لوڈ کرکے نیپال تک سڑکوں کے راستے پہنچانا آسان ہوجائیگا۔

متعلقہ عنوان :