موبائل مارکیٹس میں جعلی اسمارٹ فونز کی تعداد بڑھنے کا خدشہ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات اپریل 12:54

موبائل مارکیٹس میں جعلی اسمارٹ فونز کی تعداد بڑھنے کا خدشہ
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 اپریل 2018ء) : آج کل کے دور میں ہر موبائل صارف جدید سے جدید موبائل فون رکھنے کا خواہاں ہے لیکن موبائل مارکیٹس میں جعلی اسمارٹ فونز کی تعداد بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ اسمارٹ فون کے بڑھتے رجحانات کے باعث مارکیٹس میں اسمارٹ فونز کی نقل اور جعلی اسمارٹ فونز فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس سے موبائل خریداروں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔

موبائل مارکیٹس میں موجود جعلی فونز کو اصلی دکھانے کے لیے کمپنی کا ٹیگ بھی لگایا جاتا ہے جبکہ مارکیٹ میں مہنگے موبائل فونز کے ریپلیکا موبائل فونز بھی دستیاب ہیں جن کو اصل موبائل فون کی قیمت پر ہی فروخت کیا جاتا ہے۔ عدنان حیات نامی ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ ہمیشہ موبائل فون خریدتے وقت دکاندار سے ایک سال کی گارنٹی مانگیں اور تحریری گارنٹی کے علاوہ کسی بھی زبانی گارنٹی پر یقین نہ کریں ۔

(جاری ہے)

جعلی موبائل فونز کی گارنٹی عموماً کم ہی ہوتی ہے کیونکہ دکاندار ایک جعلی فون کے زیادہ دیر چلنے کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ جعلی اور نقل موبائل فونز کی کوالٹی ہمیشہ خراب اور ان کا رنگ ہمیشہ مدھم ہوا ملے گا۔ان موبائل فونز کے لوگو، بیٹری ، ڈیزائن ، وزن اور بٹنوں کی لوکیشن میں بھی فرق ہوتا ہے۔ کچھ لوگ موبائل فون کو ٹیسٹ کیے بغیر ہی گھر کے جاتے ہیں جبکہ دکاندار یہ جانتے ہوئے بھی کہ فون جعلی ہے خریدار کی حوصلہ افزائی کرتا رہتا ہے کہ یہ سیٹ ضرور خریدیں۔

اسمارٹ فون صارف علی طاہر نے بتایا کہ اس سلسلے میں میں دو مرتبہ دھوکہ کھا چکا ہوں، دکاندار نے مجھ سے اصل آئی فون 6 کی قیمت وصول کی لیکن بعد ازاں مجھے علم ہوا کہ اس فون کی کوالٹی اصل فون کی کوالٹی سے یکسر مختلف ہے۔ یہ سچ ہے کہ دکاندار خریداروں کو پُرانے فونز کو نیا دکھا کر بھاری رقم کے عوض فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ موبائل فونز تک ہی محدود نہیں اکثر خریدار ٹی وی، اے سی اور ایل ای ڈی اسکرینز کی خریداری پر بھی اسی دھوکے کا سامنا کرتے ہیں، علی طاہر نے کہا کہ خریداروں اور دکانداروں کو تمام اشیا کمپنی کی تصدیق شدہ دکان سے خریدنی چاہئیں، جبکہ حکومت کو ایسا فراڈ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دینا چاہئیے۔

متعلقہ عنوان :