قرض معاف کروانے والوں سے رقم کی وصولی کیسے کی جائے گی؟۔۔چیف جسٹس نے سخت حکم جاری کردیا

قرض معاف کرانے والوں کے اثاثے فروخت کرکے رقم وصول کریں گے ،ْچیف جسٹس ثاقب نثار

جمعرات اپریل 14:21

قرض معاف کروانے والوں سے رقم کی وصولی کیسے کی جائے گی؟۔۔چیف جسٹس نے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے قرضہ معافی کے کیس میں ریمارکس دیئے کہ جنہوں نے قرض معاف کرائے ان سے وصول کریں گے اور رقم نہیں تو اثاثے فروخت کرکے رقم وصول کریں گے۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قرضہ معافی سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں نیشنل بینک اور نجی بینک کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

نیشنل بینک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں مین پارٹی اسٹیٹ بینک ہے ،ْ نجی بینک کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ اسٹیٹ بینک ریگولیٹری اتھارٹی ہے اور بینکوں نے قرضے معاف کیے۔نجی بینک کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیشنل بینک کمیشن کا کہنا ہے کہ قصہ ماضی ہے لیکن بینک اس پیسے کی واپسی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیشن کی رپورٹ کہاں ہی اس پر نیشنل بینک کے وکیل نے جواب دیا کہ مجھے بھی رپورٹ دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔

جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ کوئی اندازہ ہے کتنے ارب معاف ہوئی نجی بینک کے وکیل نے بتایا کہ 54 ارب روپے معاف ہوئے۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ مقدمات پرانے ہوگئے ہیں اسی لیے انہیں کھول رہا ہوں ،ْسیاسی بنیادوں پر جو قرض معاف ہوئے اس کی تفصیلات کہاں ہیں 222 مشکوک مقدمات ہیں۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ نیشنل بینک نے بہت زیادہ رقوم کے قرضے مختلف ٹیکسٹائل ملوں کو معاف کیے ،ْجب سے یہ رپورٹ آئی ہے اس کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوئی ،ْیہ معاملہ ہمارے پاس 2007 سے زیر التوا ہے ،ْہمیں رپورٹ چاہیے اور اس کی سفارشات بھی، جنہوں نے سیاسی بنیادوں پر قرض معاف کرائے ان سے وصول کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ سیاسی بنیادوں پر معاف کیے گئے قرضے واپس کروائیں گے۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ رپورٹ کیا ہی انہوں نے ذمہ داری کس پر ڈالی ہی پوری رپورٹ کی سمری عدالت کو فراہم کریں۔بیرسٹرظفر اللہ نے عدالت کو بتایا کہ محمد خان جونیجو،، یوسف رضا گیلانی اور بے نظیر بھٹو،، نواز شریف اور چوہدری برادران نے بھی قرض لے کر معاف کرائے ہیں۔اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ جنہوں نے غیرقانونی قرض معاف کرائے ان سے وصول کریں گے ،ْاگر رقم نہیں تو اثاثے فروخت کرکے رقم وصول کریں گے۔