لیگی حکومت کا بجٹ پیش کرنا پری پول ریگنگ کے مترادف ہے ،ْشیریں مزاری

جمعرات اپریل 14:50

لیگی حکومت کا بجٹ پیش کرنا پری پول ریگنگ کے مترادف ہے ،ْشیریں مزاری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 18-2017 کا بجٹ پیش کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے کہا ہے کہ لیگی حکومت کا مینڈیٹ اب ختم ہوچکا ہے اور اس موقع پر بجٹ پیش کرنا پری پول ریگنگ کے مترادف ہے۔ایک انٹرویومیں تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے کہا کہ جس جماعت کا مینڈیٹ کم و بیش 40 دن کا رہ گیا ہو ،ْاسے کسی طور پر بھی سیاسی یا اخلاقی اختیار نہیں کہ وہ اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس نئے بجٹ میں اس طرح کے وعدے کرنے کی کوشش کرے جو اگلی حکومت کیلئے پورا کرنا مشکل ہو جائے۔پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیئر بخاری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت 31 مئی تک اپنی مدت مکمل کر چکی ہوگی اور اگلا بجٹ یکم جولائی سے شروع ہوگا تو ایسے موقع پر جب ان کا اپنا مینڈیٹ ہی باقی نا رہے تو ان کا بجٹ پیش کرنے کا کوئی حق نہیں بنتا۔

(جاری ہے)

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رہنما ندیم افضل چن کا پارٹی کو خیرباد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے پر نئیر بخاری نے کہا کہ' یاسی جماعتوں میں اکثر لوگ آتے اور جاتے رہتے ہیں جو نئی بات نہیں اور ناہی پیپلز پارٹی اس بات پر پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ 1977 میں جب مارشل لاء لگا تو بہت سے اہم ساتھی پارٹی چھوڑ کر چلے گئے تھے لیکن پیپلز پارٹی تب بھی قائم رہی اور آج بھی موجود ہے اور جو لوگ پیپلز پارٹی چھوڑ کر جاتے ہیں وہ سیاست میں گم ہوجاتے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ یہ کسی قانون میں نہیں لکھا کہ اگر کسی حکومت کی مدت ختم ہورہی ہو اور اس پر یہ قدغن لگادی جائے کہ وہ کام نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا بجٹ پیش کرنے پر کوئی مسئلہ نہیں تاہم اگلی حکومت جو مرضی چاہے ترقیاتی کام منظور کروائے یا پچھلی چیزوں میں ردوبدل کروائے کیونکہ اختیارات اور پیسہ ان کے پاس موجود ہوگا۔