موسم گرما میں تھوڑی کھاد، کم پانی سے شکرقندی کاشت کرکے بہتر مالی منفعت حاصل کی جا سکتی ہے، ماہرین زراعت

جمعرات اپریل 15:11

فیصل آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ موسم گرما میں شکر قندی کو ایک اہم نقد آور فصل کے طور پر کاشت کیا جاسکتا ہے جو بہترین مالی منفعت کا باعث بھی بن سکتی ہے نیز شکر قندی کو تھوڑی کھاد اور کم پانی سے بھی اگا کر بہتر پیداوار کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے جس کے بیج کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے تاہم شکر قندی کے کاشتکار منظور شدہ قسم وائٹ سٹار کا بھی استعمال کریں تاکہ اچھی پیداوار مل سکے۔

انہوںنے بتایا کہ شکر قندی غذائی اعتبار سے بھی انتہائی مفید ہوتی ہے جس میں 30 سے 35 فیصد تک کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کاشت کار جن کے پاس وافر سرمایہ نہ ہو وہ بھی انتہائی آسانی کے ساتھ شکر قندی کو کاشت کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ شکر قندی کیلئے تھوڑی کھاد اور کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بیج کا خرچہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اس فصل کی کاشت کیلئے بیلیں کاٹ کر لگائی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار ماہ مئی کے دوران فصل کاشت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ سٹار قسم سفید رنگ کی بہترین پیداوار دینے والی انتہائی مفید قسم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایکڑ رقبہ کاشت کرنے کیلئے 180 سے 200 کلوگرام شکرقندی درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریتلی میرا زمین جس میں پانی کے نکاس کا مناسب انتظام ہو وہ شکر قندی کی کاشت کیلئے انتہائی موزوں ثابت ہوسکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :