چین نے مزید 60 بلین یوان مالیت کے ٹیکسز میں کمی کا اعلان کر دیا

جمعرات اپریل 15:26

چین نے  مزید 60 بلین یوان مالیت کے ٹیکسز میں کمی کا اعلان کر دیا
بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) چین نے چھوٹے کاروبار اور اختراعات کے فروغ کیلئے مزید 60 بلین یوان مالیت کے ٹیکسز میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے نئے آلات اور ایک مرتبہ قابلِ ٹیکس سازوسامان کی فی یونٹ ویلیو ایک ملین سے بڑھا کر پانچ ملین اور چھوٹے کاروبارکی سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی پانچ لاکھ سے بڑھا کر ایک ملین یوان کرد ی ، فیصلوں کا اطلاق یکم جنوری دو ہزار اٹھارہ سے اکتیس دسمبر دو ہزار بیس تک ہو گا،ٹیکسز میں کمی کا مقصدچھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی اور روزگار کی فراہمی کے مواقعوں میں اضافہ کرنا ہے۔

چائنہ ریڈیو انٹر نیشنل کے مطابق چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کی زیرِ صدارت ریاستی کونسل کی ایگزیکٹو میٹنگ میں کہا ہے کہ ملک میں اختراعات اور کاروبار کی حوصلہ افزائی اور چھوٹے کاروبار کے فروغ کے لیے ساٹھ بلین یوان سے زائد مالیت کے ٹیکسز میں کمی کی جائیگی۔

(جاری ہے)

اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ ٹیکسز کو کم کرنے کا مقصد اختراعات اور کاروبار کی شروعات کی لاگت کو کم کرنا، چھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی اور روزگار کی فراہمی کے مواقعوں میں اضافہ کرنا ہے۔

بیان کے مطابق تحقیق اور ترقی کیلئے خریدے گئے نئے آلات اور ایک مرتبہ قابلِ ٹیکس سازوسامان کی فی یونٹ ویلیو کو ایک ملین سے بڑھا کر پانچ ملین یوان کر دیا گیا ہے۔چھوٹے کاروبارکی سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی کو پانچ لاکھ یوان سے بڑھا کر ایک ملین یوان کردیا گیا ہے۔مذکورہ بالا دونوں فیصلوں کا اطلاق یکم جنوری دو ہزار اٹھارہ سے اکتیس دسمبر دو ہزار بیس تک ہو گا۔

ٹیکسز میں کمی ، سنٹرل اکنامک ورک کانفرنس اور گورنمنٹ ورک رپورٹ کی ہدایات پر عملدآمد کی کوشش ہے۔ اجلاس میں بیرون ملک تحقیق اور ترقی پر ہونے والے اخراجات کو اضافی ٹیکس کٹوتی سے نکالنے کے فیصلے کو ختم کردیا گیا۔ہائی ٹیک فرمز اور چھوٹے اور درمیانے درجے کی ٹیکنالوجیکل فرمز کے سرمائے کے نقصان کی اگلے سال منتقلی کی مدت کو بھی پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کردیا جائے گا۔

ہائی ٹیک فرمز کی طرح تمام کاروباری اداروں پر ملازمین کی تربیت پر عائد موجودہ ٹیکس شرح کو دو اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھا کر آٹھ فیصد کر دیا جائیگا۔ اس فیصلے پر رواں سال یکم جنوری سے عملدرآمد کیا جائیگا۔ ریاستی کونسل کے اجلاس میں " بک آف اکاونٹس " پر عائد سٹیمپ ڈیوٹی میں ریلیف دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور یہ فیصلہ یکم مئی دو ہزار ا ٹھارہ سے لاگو ہو گا۔

اس کے علاوہ ہائی ٹیک کاروبار کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری کرنے والوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ کا دائرہ کار پور یملک تک پھیلا دیا جائیگا۔ مذکورہ پالیسی کو چین میں موجود آٹھ اختراعاتی اور اصلاحاتی تجرباتی زونز اور سو جو صنعتی پارک میں پائلٹ پروگرام کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا اقدامات سے کاروباری اداروں پر عائد ٹیکسز کے بوجھ میں ساٹھ بلین یوان سے زائد کی کمی کی توقع ہے۔

ٹیکسز میں کی گئی موجودہ کمی، اٹھائیس مارچ کو منعقدہ ریاستی کونسل کی ایگزیکٹو میٹنگ میں دیے گیے ٹیکس پیکج کا تسلسل ہے۔ مذکورہ پیکج چار سو بلین یوان ٹیکس چھوٹ پر مشتمل تھا۔ریاستی کونسل کی ایگزیکٹو میٹنگ میں چھوٹے کاروبار اوردیہی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے فنانشل سروسز پالیسیز پر عملدرآمد پرزور دیا گیا تا کہ چھوٹی اور دیہی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی لاگت کو کم کیا جاسکے۔