اسٹیٹ بینک سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی کی تفصیلات ایک ہفتے میں طلب

جمعرات اپریل 15:28

اسٹیٹ بینک سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی کی تفصیلات ایک ہفتے میں طلب
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور اثاثوں کے کیس میں اسٹیٹ بینک سے بیرون ملک منتقل رقوم کی تفصیلات ایک ہفتے میں طلب کرلیں جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اصل مقصد باہر گیا ہوا پیسہ تلاش کرنا ہے ،ْدیکھنا یہ تھا کہ رقم کس نے اور کیسے باہر منتقل کی ،ْکس کے کتنے اثاثے اور اکاؤئنٹس کس ملک میں ہیں ،ْسوئٹزرلینڈ میں کتنے پاکستانیوں کے اکاؤنٹس ہیں ،ْکتنے پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں اگر کوئی اثاثے چھپائے تو حکومت باالکل مفلوج ہے، حکومت نے خود پیسہ باہر لے جانیکی پالیسیاں بنائیں ،ْجب چاہو پیسہ باہر منتقل کردو،کوئی پوچھنے والا نہیں۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤئنٹس اور اثاثوں پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

(جاری ہے)

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بہت سے افراد کے اثاثے اور اکاؤنٹس ملک سے باہر ہیں ،ْ اثاثوں کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ بعد کی بات ہے ،ْپہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کب کتنا پیسہ بیرون ملک منتقل ہوا۔

اس موقع پر عدالت کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی اور کمیٹی کے سربراہ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے بتایا کہ عدالت نے موجودہ قوانین کا جائزہ لینے کا کہا تھا ،ْعدالت نے پوچھا تھا کہ پیسہ کیسے واپس لایا جاسکتاہے۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ اصل مقصد باہر گیا ہوا پیسہ تلاش کرنا ہے ،ْدیکھنا یہ تھا کہ رقم کس نے اور کیسے باہر منتقل کی، کس کے کتنے اثاثے اور اکاؤئنٹس کس ملک میں ہیں، سوئٹزرلینڈ میں کتنے پاکستانیوں کے اکاؤنٹس ہیں،کتنے پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں۔

چیف جسٹس نے گورنر اسٹیٹ بینک سے استفسار کیا کہ کیا ہم انتظار کریں کہ حکومت پہلے مختلف ممالک سے معاہدے کرے۔۔گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ معاہدے کے علاوہ کسی ملک سے معلومات نہیں مل سکتی، ٹیکس دہندگان اپنے دنیا بھر کے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اگر کوئی اثاثے چھپائے تو حکومت باالکل مفلوج ہے، حکومت نے خود پیسہ باہر لے جانیکی پالیسیاں بنائیں، جب چاہو پیسہ باہر منتقل کردو،کوئی پوچھنے والا نہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ سے استفسار کیا کہ کتنے پاکستانیوں کے سوئٹزر لینڈ اور دیگر ممالک میں اکاؤنٹس ہیں ، بیرون ملک املاک بھی خریدی گئی ہیں ،ْجہانگیرترین نے کتنے ملین ڈالرز بیرون ملک بھیج دئیی اور باہر اثاثے بنالئے ہیں، لیکن انہوں نے گوشواروں میں کچھ اور بتایا ہے، ہمیں بتا دیں وہ رقم واپس کیسے آسکتی ہی گورنر اسٹیٹ بینک نے جواب دیا کہ ٹی او آر میں اس کا طریقہ کار شامل ہے کہ غیر قانونی طریقے سے منتقل رقم واپس کیسے لائی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ پتہ چلنا چاہئے کتنے پاکستانیوں کے سوئٹزرلینڈ میں اکائونٹس اور املاک ہیں۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ہم انتظار کریں حکومت اثاثے واپس لانے کے لئے پہلے معاہدہ کرے اور پھر عدالتی کارروائی ہو کیا ایف بی آر اپنے ٹیکس ہولڈر سے نہیں پوچھ سکتا کہ ان کے بیرون ملک اکائونٹ ہیں یا نہیں اگر ٹیکس ادا کرنے والا معلومات نہ دے تو ہم فارن اکائونٹس کا معلوم نہیں کر سکتے ،ْاس کا مطلب ہمارا سسٹم مفلوج ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایف بی آر کے پاس کوئی چھڑی نہیں تو ایمنسٹی اسکیم کیوں دیتے ہیں گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں جو لوگ سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے تو معلومات سامنے آجائیگی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب مقصد یہ ہے کہ ستمبر سے قبل ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا لیں۔۔چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر سے استفسار کیا کہ ایف بی آر کے پاس درجنوں ڈبل کیبن گاڑیاں ہیں، جن کی یہ اہلیت نہیں رکھتی چیئرمین ایف بی آر نے مؤقف پیش کیا کہ کچھ گاڑیاں یوایس ایڈ نے دی، ڈبل کیبن آپریشنل گاڑیاں ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایف بی آر نے ایسا کیا آپریشنل کرنا ہے جو 1300 سی سی گاڑی سے نہیں ہوسکتا۔ اسٹیٹ بینک کے پاس کتنی بڑی گاڑیاں ہیں جن کے پاس بڑی گاڑیاں ہیں واپس لے لیں، مجھے معلوم ہے چیئرمین ایف بی آر کے پاس 1300سی سی گاڑی ہے ،ْیہ قوم کا پیسہ، قوم کامال ہے ،ْمیں نے تمام چیف جسٹس صاحبان سے بھی تفصیل مانگی ہے ،ْ پالیسی بنائیں گے اور تمام بڑی گاڑیوں کا دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔عدالت نے اسٹیٹ بینک سے بیرون ملک منتقل رقم کی تفصیلات ایک ہفتے میں طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ تفصیلات سربمہر لفافے میں پیش کی جائے۔ کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی۔