پنگریو، نہری پانی کی بندش کا دورانیہ ایک ماہ سے تجاوز کر جانے کے باعث پینے کے پانی کا انتہائی سنگین بحران پیداہوگیا

جمعرات اپریل 16:11

پنگریو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) پنگریو شہر اور گردونواح کے سیکڑوں قصبوںو دیہاتوں میں نہری پانی کی بندش کا دورانیہ ایک ماہ سے تجاوز کر جانے کے باعث پینے کے پانی کا انتہائی سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے اور انسان اور مویشی ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے پر مجبور ہو گئے ہیں پنگریو میں پانی کا ڈرم ڈھائی سو سے تین سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے مساجدمیں وضو کے لئے پانی دستیاب نہیں ہے جبکہ علاقے کی ہزاروں ایکڑ زرعی زمین پانی کی مسلسل نایابی کے باعث بنجر اور کلر زدہ ہوکر پیداواری صلاحتیں کھو رہی ہے کاشت کاروں اور شہریوں نے پانی کے اس بحران کا ذمہ دار محکمہ آبپاشی کے حکام کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں پانی کا انتہائی شدید بحران غیر منصفانہ آبی تقسیم اور بے قاعدگیوں کے باعث پیدا ہو اہے اور پانی کی تقسیم میں شادی اسمال واہ کے ساتھ کی جانے والی نا انصافیوں کے خلاف پنگریو میں شٹر ڈائون ہڑتال کی جائے گی محکمہ آبپاشی کی جانب سے شادی اسمال واہ میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے پانی نہ چھوڑنے کے باعث پچاس ہزار سے زائد کی آبادی کے حامل پنگریو شہر اور علاقے کے سیکڑوںقصبوں و دیہاتوں میں پینے کے پانی کا خوفناک بحران پیدا ہو گیا ہے پنگریو شہر کو پانی فراہم کرنے والی فراہمی آب کی دونوں اسکیموں کے تالاب کئی روز قبل ڈیڈ لیول پر پہنچ جانے کے باعث پنگریو کے شہریو ں کو پانی کی فراہمی بند کر دی گئی تھی جبکہ علاقے کے قصبوں اور دیہاتوں میں پینے کے پانی کا بحران پنگریو شہر سے بھی کئی روز قبل پیدا ہو گیا تھا شادی اسمال واہ کی ٹیل کے علاقے میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی کے باعث نقل مکانی شروع ہو چکی ہے ٹیل کے علاقے میں شادی اسمال واہ میں مٹی اور ریت اُڑتی دکھائی دے رہی ہے نہری پانی کی مسلسل بندش کے باعث علاقے کے کاشت کار ربیع اور خریف کی فصلوں کی بوائی سے محروم ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے پورا علاقہ معاشی بدحالی کا شکار ہوچکا ہے اور ہزاروں کاشت کارفاقہ کشی کا شکار ہوگئے ہیں پنگریو شہر میںواٹر سپلائی کے تالابوں میں بچا کھچا انتہائی آلودہ اور مضر صحت پانی حاصل کرنے کے لئے عوام جن میں کم سن بچے بھی شامل ہیں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور ان تالابوں پر مویشی اور انسان ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے پر مجبور ہو گئے ہیں پانی کی عدم دستیابی کے باعث پنگریو میں حمام مالکان نے اپنے حماموں کو تالے لگا دیئے ہیں جبکہ مساجد میں وضو کے لئے پانی کا حصول انتہائی مشکل ہو گیا ہے پنگریو میں ہینڈ پمپوں کا آرسینک ملا پانی بھاری نرخوں پر فروخت کیا جارہا ہے شہریوں کے مطابق پانی کا ڈرم ڈھائی سو سے تین سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے پانی کی اس شدید مصنوئی قلت کے باعث پنگریو کے شہریوں اور شادی اسمال واہ کے کاشت کاروں میں شدید غم وغصہ پیدا ہو گیا ہے اور انہوں نے پانی کے اس سنگین بحران کا ذمہ دار محکمہ آبپاشی کے حکام کو قرار دیا ہے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شہریوں اور کاشت کاروں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے حکام نے پانی کی وارہ بندی پروگرام میں شادی اسمال واہ کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کر رکھا ہے اور شادی اسمال واہ کا پانی دیگر نہروں کے بڑے زمینداروں کو بھاری رشوت کے عوض فروخت کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ پانی کے شدید مصنوئی بحران کے باعث اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ واٹر سپلائی تالابوں پر انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے پر مجبور ہیں جوکہ انتظامی اور محکمہ جاتی نا اہلی کی انتہا ہے شہریوں اور کاشت کاروں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور واٹر کمیشن کے سربراہ سے اپیل کی ہے کہ پنگریو میں انسانوں اور جانوروں کے ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے پر مجبور ہونے اور شادی اسمال واہ کو پانی کی فراہمی میں امتیازی سلوک کا نشانہ بنانے کا نوٹس لیا جائے اور شادی اسمال واہ میں فوری طور ہ پر پانی فراہم کیا جائے بصورت دیگر پنگریو کے شہری اور علاقے کے کاشت کار مشترکہ طور پر احتجاج کریں گے اور پنگریو شہر میں شٹر ڈائون ہڑتال کی جائے گی۔