شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی کی حنوط شدہ لاش دریافت

9 کے انقلاب کے دوران ان کے مزار کو تباہ کردیا گیا تھا البتہ ان کی باقیات کبھی دریافت نہیں ہوسکی تھیں

جمعرات اپریل 16:26

تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) ایران کے دارالحکومت تہران کے جنوبی علاقے شہر ری کے ایک مزار سے تعمیراتی کام کے دوران سابق شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی کی حنوط شدہ لاش دریافت کرلی گئی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق رضا شاہ پہلوی کے خاندان کے ارکان نے دعوی کیا ہے کہ جو حنوط شدہ لاش دریافت ہوئی ہے وہ حتی الامکان طور پر رضا شاہ پہلوی کی ہے۔

اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بھی تصاویر گردش کررہی ہیں جن سے اس رپورٹ کو مزید تقویت مل رہی ہے۔سابق شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا مزار بھی شہر ری میں واقع تھا تاہم 1979 کے انقلاب کے دوران ان کے مزار کو تباہ کردیا گیا تھا البتہ ان کی باقیات کبھی دریافت نہیں ہوسکی تھیں۔اب رضا پہلوی، جو امریکا میں مقیم ہیں، انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ حنوط شدہ لاش ان کے دادا رضا شاہ پہلوی کی ہی ہے۔

(جاری ہے)

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں رضا شاہ پہلوی کے پوتے رضا پہلوی نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے خاندان کے منظور شدہ طبی ماہرین کو لاش تک رسائی دے اور ایران میں اس کی دوبارہ باوقار تدفین کی اجازت دے۔انہوں نے اپنے بیان میں لکھا کہ اگر بابائے جدید ایران اور بادشاہ کے طور پر نہیں تو ایک سپاہی اور ملک کے خادم کی حیثیت سے ہی رضا شاہ پہلوی اس بات کے مستحق ہیں کہ ایران میں ان کی باضابطہ قبر موجود ہو اور ایرانی شہریوں کو اس کا علم ہو۔

اس حوالے سے ایران کی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ممکن ہے دریافت ہونے والی لاش سابق شاہ ایران کی ہو تاہم بعض میڈیا رپورٹس میں اس دعوے کی تردید کی گئی ہے اور فی الحال یہ بھی معلوم نہیں کہ لاش کو اس وقت کہاں رکھا گیا ہے۔رضا شاہ پہلوی ایران کے فوجی سربراہ تھے جنہوں نے 1921 میں حکومت پر قبضہ کرلیا تھا اور ان کے خاندان نے 1925 سے تقریبا نصف صدی تک ایران پر حکومت کی۔

بہت سے لوگ ایران کو جدت پسندی کی جانب لانے کا سہرا رضا شاہ پہلوی کے سر باندھتے ہیں تاہم بعض ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔1941 میں جب برطانیہ و روس نے ایران پر چڑھائی کی تو رضا شاہ پہلوی پر دبا ڈالا گیا کہ وہ عہدے سے دستبردار ہوجائیں جس کے بعد وہ اپنے بیٹے محمد رضا شاہ کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے۔

بعد ازاں وہ جنوبی افریقا میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے اور 1944 میں وہیں ان کا انتقال ہوا، ابتدائی طور پر انہیں مصر میں دفن کیا گیا تھا تاہم کچھ سالوں بعد ان کی لاش کو ایران لایا گیا اور دوبارہ تدفین کی گئی۔1979 میں ایران میں انقلاب کی لہر اپنے عروج پر پہنچی تو رضا شاہ پہلوی کے مزار کو تباہ کردیا گیا جبکہ ان کے بیٹے محمد رضا شاہ کو حکومت چھوڑنی پڑی تھی۔