واٹر پالیسی کی طرح کالا باغ ڈیم پر بھی قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، پیاف

جمعرات اپریل 16:10

لاہور۔26 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)نے کہا ہے کہ پہلی قومی واٹر پالیسی کی منظوری ملک میںپانی کی شدید کمی کی صورتحال میں قابل ستائش ہے،ملک میں پانی کی کمی تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے جو پاکستان کی زراعت اورصنعت کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے، دنیا میں پاکستان کی پہچان ایک بڑے رزعی ملک کی ہے،آبی ماہرین ایک عرصے سے ارباب اختیار کی توجہ پانی کی کمی کی جانب مبذول کروا رہے ہیں ، پاکستان سے سالانہ 145 ملین ایکڑفٹ پانی گزر کر سمندر میں چلا جا تا ہے،دیا میر بھاشا اورکالا باغ ڈیم ضائع شدہ پانی کو ذخیرہ کرنے کا سب سے بڑا موجب ہیں، جبکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے اڑھائی روپے لاگت والی3600میگا واٹ سستی بجلی حاصل ہوگی،چیئرمین پیاف عرفان اقبال شیخ نے سینئر وائس چیئرمین تنویر احمد صوفی اور وائس چیئرمین خواجہ شاہزیب اکرم کے ہمراہ صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ واٹر پالیسی کی طرح کالا باغ ڈیم پر بھی قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے اس لیے حکمران کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیلئے اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور اختلافات ختم کروانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں کیونکہ مہنگی بجلی و گیس سے صنعتکار و تاجر طبقہ انتہائی پریشانی کا شکار ہے ، کالا باغ ڈیم اور دیا میر بھاشا ڈیم سے سستی بجلی کے علاوہ سارا سال دریائوں میں زراعت کے لیے پانی دستیاب رہے گا اور خام مال وافر ملنے سے صنعتیں ترقی کریں گی اور ملک میں روزگار کے وافر مواقع فراہم ہونگے ،اس لیے اپنے دستیاب وسائل سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کیا جائے کیونکہ بجلی کی پیداوار اور پانی کی دستیابی کے حوالے سے کالا باغ ڈیم کا کوئی متبادل نہیں ۔