برطانیہ مسئلہ کشمیر حل کرانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے، راجہ فاروق حیدر خان

بھارت نے سیاسی شعبدہ بازیوں کے ذریعے کشمیر پر زبردستی فوجی قبضہ کیا، بھارتی وزیراعظم کی لندن آمد کے موقع پر مظاہرے کا مطلب دنیا کی توجہ مودی کی کشمیری کلنگ مہم کی طرف دلوانا تھا ،برطانوی ارکان پارلیمینٹ ایک وفد سے بات چیت

جمعرات اپریل 16:40

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ برطانیہ مسئلہ کشمیر حل کرانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے۔ برطانوی پارلیمینٹ میں پاکستانی اور کشمیری نڑاد ممبر ہمارا اثاثہ ہیں۔ہمارا کیس مضبوط،دلائل میں جان اور تحریک حق و سچ پر مبنی ہے کشمیریوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ بھارت کے ساتھ نہیں رہنا تو نہیں رہنا۔

برطانوی ارکان پارلیمینٹ ،انسانی حقوق کے ادارے اور دنیا بھر کے جمہوری لوگوں سے کہتاہوں کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دن بدن بد سے بدتر ہو رہی ہیں۔شوپیاں ،گلگام میں بھارتی فوج نے قتل عام کیا ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

(جاری ہے)

کشمیر نیوکلئر فلیش پوائنٹ ہے دنیا اس کو سمجھے۔

جنوبی ایشیاء کا امن کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے ورنہ خطہ کبھی امن کی راہ پر نہیں چل سکتا۔۔پاکستان کے ساتھ ہمارا خون کا رشتہ ہے ہمارے دل ساتھ دھڑکتے ہیں الحاق پاکستان ہمارا نصب العین اور شہداء کی قربانیوں کا ماحاصل ہے۔۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار برطانوی ارکان پارلیمینٹ کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوے کیا بعد ازاں انہوں نے سوالات کے جواب بھی دئیے۔

اس موقع پر برطانوی پارلیمینٹ میں کشمیر پر کل جماعتی پارلیمانی گروپ کے چئیرمیںن کرس لیسلی ،ڈپٹی چئیرمیںن جیک بریرٹیس ،وائس چئیرمین بیرسٹر عمران حسن ،،یورپ کیلیے شیڈو وزیر خارجہ خالد محمود ،شیڈو وزیر انصاف بیرسٹر یاسمین قریشی ،شیڈو وزیر امیگریشن افضل خان ،محمد یاسین ،سابق رکن پارلیمینٹ جولی ہیلنگ ،،مسلم لیگ ن برطانیہ کے صدر راجہ زبیر اقبال کیانی ،مسز تہمینہ صادق شاہدہ جرال ،مس شمائلہ محمود ،راجہ غضنفر خان ،راجہ توصیف کیانی ،راجہ اعجاز محمود اورراجہ شفیق احمد موجود تھے۔

وزیراعظم آزادکشمیر نے انتہائی مدلل انداز میں ارکان پارلیمینٹ کو تقسیم ہند کے وقت کشمیر پر ہونے والی ناانصافی سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کشمیر اپنے جغرافیائی محل وقوع،تہذیب وتمدن،سیاسی حالات اور تمدنی اعتبار سے ہر حال میں پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے پہلے اہلیان کشمیر کے سیاسی اکابرین نے بھی طے کر دیا تھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے سیاسی شعبدہ بازیوں کے ذریعے کشمیر پر زبردستی فوجی قبضہ کیا جسے کشمیری عوام نے پہلے دن سے تسلیم نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب مقبوضہ کشمیر 8 لاکھ کے قریب بھارتی فوج تعینات ہے جو علاقے کے اعتبار سے کسی بھی جگہ فوج کی انتہا درجے کی تعیناتی ہے جس کی وجہ سے پورا علاقہ بھارتی فوج کے حصار میں ہے اور وہاں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں شوپیاں میں بھارتی فوج نے قتل عام کیا ایک دن میں 20 نہتے نوجوانوں کو موت کی نیند سلادیا گیا جبکہ کلگام میں بھی بھارتی فوج نے ظلم کے انہی واقعات کو دہرایاجس سے دسیوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے خود کشمیری عوام سے حق خودارادیت کا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ گذشتہ 70 سال سے مسلسل اپنے اس وعدے سے بھاگ رہا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں بالخصوص یورپی ملکوں کی پارلیمینٹس کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز جن سے ہزاروں کشمیری طلباء اور طالبات بینائی سے محروم ہوئیں کا نوٹس لے اور بھارت کی حکومت کو مجبور کرے کہ وہ نوجوان کشمیریوں کو پیلٹ گنز کے ذریعے بصارت سے محروم نہ کرے۔۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی لندن آمد کے موقع پر ہمارے مظاہرے کا مطلب بھی دنیا کی توجہ مودی کی کشمیری کلنگ مہم کی طرف دلوانا تھا جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی انتہائی خطرناک انداز میں کشمیریوں کو قتل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں جس کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو شدید مذمت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں حکمراں جماعت بی جے پی کے غنڈوں نے جموں میں 8 سال کی ننھی کشمیری آصفہ کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا مگر حکومت ہند اس پر مسلسل آنکھیں بند کئے ہوے ہے جس پر ہمیں شدید تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ننھی آصفہ کا خاندان سخت مشکل میں ہے جہاں اسے بی جے پی کے غنڈوں کا سامنا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری کسی صورت بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اس لئے دنیا کے مہذب ملک جدوجہد آزادی میں کشمیری عوام کا ساتھ دین۔اس موقع پر برطانوی ارکان پارلیمینٹ وزیراعظم کے مدلل دلائل سے بہت متاثر ہوے۔انہوں نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ پارلیمینٹ میں بھی زیر بحث لائیں گے اور حکومت برطانیہ کو اس حوالے سے اپنا اہم کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کریں گے۔