مسلم لیگی گورنر اور پی ٹی آئی کے وزیراعلی کا گٹھ جوڑ ہے، سردارحسین بابک

نیب حکومت کے میگا کرپشن کیسز کا سنجیدگی سے نوٹس لے،امید ہے شفاف اور غیرجانبدارانہ بلاامتیاز احتساب کو عملی بنائیںگے،سیکرٹری جنرل اے این پی

جمعرات اپریل 17:29

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مسلم لیگ کے گورنراور پی ٹی آئی کے وزیراعلی کا گٹھ جوڑ ہے ورنہ آئینی طور پر موجودہ حالات میں وہ وزیراعلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کو کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ دو دفعہ اپوزیشن کے ریکوزیشن کو نظر انداز کرکے گورنر نے حکومت کے کہنے پر اجلاس بلایا۔

انہوں نے کہا کہ نیب موجودہ صوبائی حکومت کے میگا کرپشن کیسزکا نوٹس لیں۔ حکومت کے اپنے وزراء اور ممبران کا ایک دوسرے پر سنگین کرپشن کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ نیب کے سامنے وزیراعلی کی پیشیاں شروع ہوگئیں ہیں۔ امید ہے کہ نیب بلاامتیاز احتسابی عمل کو آگے بڑھائیں گے،موجودہ دور حکومت میں میگا کرپشن کی داستانیں روزانہ میڈیا کی سرخیاں بنتی جارہی ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ قوم کو بتائیں کہ اسمبلی کے ایک 122 ممبران میں ان کو کتنے ارکان کی حمایت حاصل ہی دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے والے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے سے کیوں کترارہے ہیں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے قائدین وضاحت کریں کہ انہوں نے کونسی وجوہات کی بنیاد پر حکومت کے اخری ایام میں حکومت کو خیرباد کہا جماعت اسلامی کو اپوزیشن میں خوش آمدید کہیں گے لیکن وہ یہ بھی بتائیں کہ وہ اب بھی اپوزیشن کا حصہ ہونگے کہ حکومت کا ایم ایم اے کی ایک جماعت پی ٹی آئی کی انتہائی مخالف اور دوسری حمایتی ہے، عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔

ملک میں مذہب کو ذاتی، سیاسی اور حکومتی مقاصد کیلئے استعمال کرنا سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان میں کھلم کھلا بغاوت تبدیلی کے ثمرات ہیں۔ موجودہ اسمبلی میں بری طرح اپنی اکثریت کھونے والے کس طرح آئیندہ حکومت بنانے کے دعوے کررہے ہیں۔ صوبے کے عوام صوبے کے خزانے کو کنگال کرنے والوں کا کڑا احتساب کرینگے۔ حکومت کے پاس رواں منصوبوں کیلئے بھی رقم موجود نہیں ہے یہ کیسی منصوبہ بندی تھی، کیا ٹیم تھی، کونسی وژن تھی، عوام نے سب کچھ اپنی انکھوں سے دیکھ لیا ہے۔

صوبے میں بے روزگاری اور مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اغوا برائے تاوان میں اضافہ خطرناک صورت اختیار کیا ہوا ہے۔ حکومت واضح کرے کہ ان کے آنیوالے بجٹ میں عوام کیلئے کونسی اچھی خبر ہی روز بروز فیصلہ بدلنے والی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔