کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی طرف سے فراہم کردہ 19 اشیائے ضروریہ کیلئے رمضان ریلیف پیکیج 2018ء کی منظوری دیدی

رمضان پیکیج کے تحت روزمرہ استعمال کی اشیاء مارکیٹ سے کم نرخوں پر فراہم کی جانی چاہئیں ،ْ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی

جمعرات اپریل 17:33

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی طرف سے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی طرف سے فراہم کردہ 19 اشیائے ضروریہ کیلئے رمضان ریلیف پیکیج 2018ء کی منظوری دے دی ہے جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ رمضان پیکیج کے تحت روزمرہ استعمال کی اشیاء مارکیٹ سے کم نرخوں پر فراہم کی جانی چاہئیں ۔ جمعرات کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔

اجلاس نے رمضان ریلیف پیکیج کے تحت جن اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دی جائے گی ان میں آٹا، چینی، خوردنی تیل و گھی، دالوں، بیسن، کھجوروں، چاول، سکواشز، دودھ اور چائے شامل ہیں۔ حکومت اس پیکیج کے تحت ایک ارب 73 کروڑ 30 لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رمضان پیکیج کے تحت روزمرہ استعمال کی اشیاء مارکیٹ سے کم نرخوں پر فراہم کی جانی چاہئیں۔

ای سی سی نے 660 کلو واٹ ایچ وی ڈی سی مٹیاری ۔ لاہور ٹرانسمیشن لائن کی فنانشل کلوزنگ تاریخ میں پرفارمنس گارنٹی کی رقم دگنا کئے بغیر سات ماہ یعنی یکم دسمبر 2018ء تک توسیع کی بھی منظوری دی۔ یہ فیصلہ تھر اور کراچی کے قریب کوئلہ سے چلنے والے بجلی کے آئندہ منصوبوں اور کراچی میں 1100 میگاواٹ کے ٹو پراجیکٹ کی الائنمنٹ کے لئے کیا گیا ہے۔ ای سی سی نے پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے اہتمام کردہ نئی مالیاتی سہولت کے طور پر کمرشل بینکوں کے ذریعے 100 ارب روپے جمع کرنے کے لئے پاور ڈویژن کی تجویز کی منظوری بھی دی۔

قرضہ کی رقم سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی اور شعبہ جاتی اداروں کے حوالے سے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے واجبات کی ادائیگی کے لئے استعمال کی جائے گی۔ مالی سال 2017-18ء کے لئے ٹوبیکو کے سیس ریٹس پر نظرثانی کی بھی منظوری دی گئی۔ قومی اقتصادی کمیٹی نے پاسکو کو سمندری راستے کے ذریعے 155 ڈالر فی ٹن کے ری بیٹ پر 5 لاکھ ٹن فاضل گندم برآمد کرنے کی بھی منظوری دے دی۔