سی پیک منصوبوں میں مقامی بزنس کمیونٹی کو بھی وہی سہولیات دی جائیں جوچائنزکو دی جا رہی ہیں‘ایس ایم منیر

برآمدات میں اضافہ ، درآمدات میں کمی کا رجحان جاری رہا تو نہ صرف خسارہ کم ہو گا ،زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دبائو کم ہو جائے گا‘اجلاس سے خطاب

جمعرات اپریل 17:36

سی پیک منصوبوں میں مقامی بزنس کمیونٹی کو بھی وہی سہولیات دی جائیں جوچائنزکو ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) یو بی جی کا نصب العین کاروباری برادری کی خدمت کرنا ہے،،بجٹ کے عمل کو زیادہ بہتربنانے کیلئے پانچ سالہ منصوبہ ہونا چاہیے،پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے نان فائلرز پر فارن کرنسی اکائونٹ رکھنے پر پابندی کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں،ترسیلات و برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کا رجحان جاری رہا تو نہ صرف خسارہ کم ہو گا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دبائو کم ہو جائے گا،،سی پیک منصوبوں میں مقامی بزنس کمیونٹی کو بھی وہی سہولیات دی جائیں جوچائنزکو دی جا رہی ہیں،ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا نظام بہت پیچیدہ ہے اس کو آسان بنایا جائے ،ٹیکسیشن بزنس فرینڈلی بنانا ہو گی،ایز آف ڈوئنگ بزنس کی درجہ بندی کو بہتر کیا جائے،ٹیکس ریفینڈکو یقینی بنایا جائے، ٹیکس دہندگان کیلئے ٹیکس فارم کو سادہ بنایا جائے، حکومت بینکوں سے لین دین پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرئے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) کے یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سر پرست اعلیٰ ایس ایم منیر اورچیئرمین افتخار علی ملک نے لاہور میں یو بی جی کی کور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ریجنل چیئرمین چوہدری عرفان یوسف، ریاض الدین شیخ ،رحمان عزیز چن،میاں ادریس،عامر عطاء باجوہ،قاضی اکبر،سہیل الطاف،زبیر طفیل،ملک زبیر،،ڈاکٹر نعمان بٹ،چوہدری شفیق،میاں وقار ،مرزا عبدالرحمن اور دیگر نے بھی اپنی اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔

یو بی جی نے ہمیشہ کاروباری برادری کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اور گروپ مستقبل میں بھی اپنا یہ مشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ یوبی جی نے پورے پاکستان سے قابل اور نوجوان قیادت کا انتخاب کیا ہے جو کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کیلئے دن رات کوششیں کر رہا ہے۔یوبی جی کے اقتدار میں آنے سے ایف پی سی سی آئی کو ایک فعال ادارہ بنا یا گیا ۔

حکومت کی جانب سے ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم کا اعلان ایک انقلابی قدم ہے جس سے عوام اور کاروباری برادری پر بوجھ میں اربوںروپے کی کمی آئے گی۔انہوں نے مزیدکہا کہ قومی شناختی کارڈ نمبر کو این ٹی این کا درجہ دینا کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا جسے تسلیم کرنا خوش آئند ہے۔سمارٹ فون کی مقامی سطح پر تیاری کی ضرورت ہے۔۔بجٹ کے عمل کو زیادہ بہتربنانے کیلئے پانچ سالہ منصوبہ ہونا چاہیے تاکہ سرمایہ کاروں کو ملکی پالیسوں کے بارے میں آگاہی ہو،جب تک سالانہ بجٹ میں سسپنس رہیگا تو صورتحال بہتر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔

دنیا بھر میں ایز آف ڈوئنگ بزنس میں پاکستان درجہ بندی میں بہت پیچھے ہے جب تک اس درجہ بندی کو بہتر نہ بنایا گیا بیرونی دنیا سے سرمایہ کار نہیں آئیں گے۔حکومت کو معاشی صورتحال بہتر کرنے کیلئے بجٹ خسارے پر قابو پانا ہوگا،یہ تمام خرابیوں کی جڑ ہے،ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے،جو لوگ ٹیکس ادا کر رہے ہیں ،ان کیلئے مشکلات ہیں،اس کے تدارک کیلئے اقدامات کئے جانے چاہیں،ٹیکس نوٹسز سے کارباری افراد خائف ہو جاتے ہیں اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت بینکوں سے لین دین پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کردے تو نہ صرف موجودہ ٹیکس دہندگان کا اعتماد جیت لے گی بلکہ نئے لوگ بھی انتہائی تیزی سے ٹیکس نیٹ میں آئیں گے۔