ڈسٹرکٹ جیل سرگودہا میں تہرے قتل کے 2 مجرمان کی پھانسی فریقین میں صلح ہونے پر روک لی گئی

سیشن کورٹ نے فریقین کے بیانات قلمبند کر کے صلح منظور کر لی

جمعرات اپریل 17:37

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) ڈسٹرکٹ جیل سرگودہا میں تہرے قتل کے 2 مجرمان کی پھانسی فریقین میں صلح ہونے پر روک لی گئی۔سیشن کورٹ نے فریقین کے بیانات قلمبند کر کے صلح منظور کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق پھانسی سے قبل جیل میں فریقین نے صلح نامہ پر دستخظ کر دیئے جس کی رپورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بجھوا ئی گئی جس پر عدالت نے فریقین میں صلح کے بیانات ریکارڈ کئے۔

زرائع کے مطابق فریقین میں کئی روز سے صلح کی کاوشیں جاری رہی قبل ازیں 1 9 اپریل کے پھانسی کے احکامات بھی صلح کی درخواست پر موخر کر دیئے گے اور اس صلح مکمل ہونے پر 26 اپریل کے لئے دوبارہ بلیک وارنٹ جاری ہوئے جو 26 اپریل کی صبع جیل میں پھانسی سے قبل صلح نامہ دینے پر پھر روک دیئے گے۔اب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صلح کی دستاویزات مکمل ہونے پر صلح منظوری کا فیصلہ دے دیا۔

(جاری ہے)

صلح سے پھانسی سے بچنے والے مجرمان امجد علی ولد محمد قوم نول بھٹی اور خضر حیات ولد پہلوان قوم نول بھٹی سکنہ کیسو پور کوتھانہ بھیرہ کو مقدمہ نمبر89/05بجرم 302/324/452/148/109/7ATA مورخہ 05-07-05کے تحت محمد اسلم ولد جہان خان عرف جہانہ،محمد رمضان ولد جہان خان عرف جہانہ،مسماة کوثر پروین دختر جہان خان عرف اقوام نول بھٹی سکنہ کیسو پور کے قتل اور مسماةبشراں بی بی دختر جہان خان عرف جہانہ کو مضروب کرنے کے جرم میں بعدالت سپشل جج انسداد دہشت گردی عدالت سرگودہا سے سزائے موت ہوئی۔

جس پر صدر پاکستان سے مجرمان کی سزائے موت کی رحم کی اپیل خارج ہونے کے بعدڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب سرگودہا نے گورنمنٹ آف پنجاب ہو م ڈیپارٹمنٹ لاہور کے حکم کی روشنی میں ملزمان کو مورخہ 26-04-2018بوقت 05.30بجے صبح پھانسی ڈسٹرکٹ جیل سرگودہا میں دینے کے لئے بلیک وارنٹ جاری کئے تھے۔اس سے قبل 19 اپریل کے ڈیتھ وارنٹ صلح کی درخواست پر موخر ہوئے اور دوبارہ 26 اپریل پھانسی کے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے گے۔ جن پر عمل درآمد سے قبل ورثائ کی آخری ملاقات بھی کروادی گئی۔ لیکن عمل درآمد سے قبل فریقین نے صلح کی دستاویزات پر دستخط کر کے ڈیوٹی سول جج کو دیئے جہنوں نے عمل درامد روک کر رپورٹ سیشن کورٹ کو بجھوا دی۔ جس کی روشنی میں فریقین کے صلح کے بیان قلم بند کر لیے گے۔