وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ (کل) قومی اسمبلی میں پیش کر یگی،مفتاح اسماعیل

بجٹ تقریرکریں گے اپوزیشن جماعتوںکا پورے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے پر شدید احتجاج کا فیصلہ ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا بجٹ اجلاس سے قبل احتجاج کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے الگ الگ پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس ہو گا حکومت نے بھی اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ احتجاج کیلئے حکمت عملی طے کر لی، وفاقی وزیر شیخ آفتاب کو لیگی ارکان کی بجٹ اجلاس میں ہر صورت شرکت یقینی بنانے کا ٹاسک ،قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے بعد مشیرخزانہ بجٹ دستاویزات سینیٹ میں پیش کریں گے

جمعرات اپریل 17:41

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ (کل) قومی اسمبلی میں پیش کر یگی،مفتاح ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ (کل)جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کر یگی، مشیرخزانہ ڈاکٹرمفتاح اسماعیل بجٹ تقریرکریں گے،،قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے بعد مشیرخزانہ بجٹ دستاویزات سینیٹ میں پیش کریں گے،دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے پورے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے پر شدید احتجاج کا فیصلہ کیا ہے،اپوزیشن کی بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا بجٹ اجلاس سے قبل احتجاج کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے الگ الگ پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس ہو گا ،دوسری جانب حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ احتجاج کیلئے بھی حکمت عملی طے کر لی ہے اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب کو لیگی ارکان کیبجٹ اجلاس میں ہر صورت شرکت یقینی بنانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔

(جاری ہے)

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ساڑھے 4بجے پارلیمنٹ ہائوس میں ہو گا۔ مشیرخزانہ ڈاکٹرمفتاح اسماعیل قومی اسمبلی میں بجٹ تقریرکریں گے،57کھرب روپے کے بجٹ میں خسارے کا اندازہ 12کھرب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 20کھرب 43ارب روپے رکھے جائیں گے۔وفاق کا ترقیاتی پروگرام 930ارب روپے اور صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 10کھرب 13ارب روپے کاہوگا ،انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے 575ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

آبپاشی کے نظام کیلئے 65 ارب روپے ،،ریلوے کیلئے 39 ارب روپے خرچ ہوں گے جبکہ توانائی کیلئے 80 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔گوادرپروجیکٹس اور ایئرپورٹ کیلئے 10 ارب روپے خرچ ہوں گے ٹیکس وصولی کا ہدف 4500ارب روپے ہوگا۔آئندہ مالی سال دفاع کیلئے 1100ارب اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 1600ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔آئندہ بجٹ میں زرعی ترقی کا ہدف 3.8فیصد، صنعت کا 7.6فیصد اور خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف ساڑھے 6فیصد متوقع ہے،افراط زر کی شرح کو6فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے پورے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے پر شدید احتجاج کا فیصلہ کیا ہے، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ارکان پارلیمنٹ کو ایوان میں بجٹ کے دوران بھرپور احتجاج کرنے کی ہدایت کر دی، عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو ٹاسک سونپ دیا۔ بجٹ اجلاس سے قبل تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس (آج)جمعہ کو 2 بجے پارلیمنٹ ہاوس میں ہو گا۔

اسی پیپلز پارٹی نے بھی بجٹ اجلاس سے قبل اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس (آج)جمعہ کو ساڑھے 3بجے طلب کر لیا ہے ،پارلیمانی پارٹی کا اجلاس قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے طلب کیا،اجلاس میں بجٹ کے حوالے سے حکمت عملی پر مشاورت ہو گی،اجلاس میں حکومت کی طرف سے سال بھر کا بجٹ پیش کرنے کے اعلان کا جائزہ لیا جائے گا۔اس طرح سینٹ کا اجلاس (آج)جمعہ کو شام ساڑھی6بجے چیئرمین میر صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہو گا،جس میںمشیرخزانہ ڈاکٹرمفتاح اسماعیل بجٹ دستاویزات پیش کریں گے۔