امید ہے امریکی صدر تہران کیساتھ جوہری معاہدہ ختم کردیں گے،فرانسیسی صدر

جمعرات اپریل 18:27

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون نے کہا ہے کہ میرے خیال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے جوہری معاہدہ ختم کردیں گے۔جمعرات کو امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق 3روزہ دورہ امریکا مکمل کرنے کے بعد روانگی سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 12 مئی کو ایران کیساتھ ہونیوالے جوہری معاہدے پر کیا فیصلہ لیں گے،تاہم یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ امریکی صدر معاہدے کو کوڑے میں ڈال کر سیاسی خدشات کو دور کریں گے۔

ایمانیول میکرون نے کہا کہ اوول آفس میں امریکی ہم منصب سے ہونیوالی پرائیوٹ ملاقات میں ڈونلڈ ٹرمپ جوہری معاہدے پر تنقید کرتے رہے،اور اسے تاریخ کا بدترین معاہدہ اور نہ جانے کیا کیا کہتے رہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو واضح کر دیا کہ جوہری معاہدے کے خاتمے سے نیا پنڈورا باکس کھل جائیگا اور میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے جنگ نہیں چاہتے۔

واضح رہے کہ امریکی اور فرانسیسی صدور نے ایران سے نئے جوہری معاہدے کا عندیہ دیدیا۔گزشتہ روز دونوں صدور نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم بہت بڑا کچھ کرنے جارہے ہیں اور شاید یہ ایران سے معاہدہ بھی ہوسکتا ہے تاہم کوئی بھی نیا معاہدہ مضبوط بنیاد پر ہوگا۔

دوسری جانب ایران نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا نے معاہدہ منسوخ کیا تو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے جب کہ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکا معاہدے سے پھرا تو ایران یورینئم افزودگی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔واضح رہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے میں امریکا سمیت چین،، فرانس،، جرمنی،، روس،، برطانیہ اور یورپی یونین حصہ تھے اور امریکی صدر کو 12 مئی کو معاہدے کی تجدید کرنا ہی