قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے چھوٹے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا واک آئوٹ لمحہ فکریہ ہے،آفتاب احمد خان شیر پائو

فاٹا انضمام کمیٹی کی شروع میں دو جماعتوں نے مخالفت نہیں کی تھی البتہ کمیٹی کے سفارشات کے بعد دونوں جماعتوں کا فاٹا خیبر پختونخوا انضمام کی مخالفت کرنا پشتون عوام کیساتھ وفاداری نہیں فاٹا کے عوام خود انضمام چا ہتے ہیں بدامنی کے واقعات سی پیک اور دیگر منصوبوں کو متاثر کرینگے،پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 18:36

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پائو نے کہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے چھوٹے صوبوں کا وزرائے اعلیٰ کا واک آئوٹ لمحہ فکریہ ہے فاٹا انضمام کمیٹی کی شروع میں دو جماعتوں نے مخالفت نہیں کی تھی البتہ کمیٹی کے سفارشات کے بعد دونوں جماعتوں کا فاٹا خیبر پختونخوا انضمام کی مخالفت کرنا پشتون عوام کیساتھ وفاداری نہیں فاٹا کے عوام خود انضمام چا ہتے ہیں بدامنی کے واقعات سی پیک اور دیگر منصوبوں کو متاثر کرینگے وفاق چھوٹے صوبوں پر توجہ دیں وفاقی حکومت دبائو میں ہے پشتون وبلوچ کو وہ حقوق نہیں ملے جو ملنے چا ہئے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ اور تنائو ملکی مفاد میں نہیں پارلیمنٹرین خود کہہ رہے ہیں کہ پارلیمان بے بس ہے تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن انتخابات کی راہ ہموار کریں انتخابات کا بروقت ہونا ضروری ہے پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگرن لیگ کی بے حسی کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ن لیگ کی حکومت سیاسی جماعتوں کو اعتماد نہ لینے کے نتائج بھگت رہے ہیں امن کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدراامد نا گزیر ہے سیاست سے بالاتر ہو کر امن پر توجہ دی جائے تبدیلی انتخابات کی صورت میں آنی چا ہئے سیاسی وفاداریاں بدلنے سے تبدیلی نہیں پیسے کے انتخابات میں عمل دخل ہونا نیک شگون نہیں ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہونا چا ہئے اور لاپتہ افراد کی وجہ سے لوگ اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب اور پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا بار ایسوسی ایشن کے تقریب سے کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاری رحمت اللہ کاکڑ ، جنرل سیکرٹری نجم الدین مینگل نے بھی خطاب کیا جبکہ قومی وطن پارٹی کے رہنمائوں سمیع اللہ لونی، امان اللہ بازئی،جلیل مردانزئی، اسد آفریدی بھی موجود تھے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پائو نے کہا ہے کہ کیسز ختم ہونے کے بعد پہلی دفعہ کوئٹہ آیا ہوںمیں خودکش حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوںمسیح برادری اور ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ باعث تشویش ہے اس وقت صوبائی دارالحکومت دہشتگردی کے زد میں ہے دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے لگتا ہے الیکشن سے قبل یہاں کچھ لوگ افراتفری کرنا چاہتے ہیں بلوچستان اور کے پی کے میں روزانہ لاشیں گرتی ہے سانحہ اے پی ایس کے بعدنیشنل ایکشن پلان بنا لیکن نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد نہیں ہوا امن و اومان کی بہتری تک سی پیک سمیت دیگر منصوبوں کا تکمیل مشکل ہے انہوں نے کہا ہے کہ فیڈریشن میں تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا ہر ایک کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے یہی جمہوریت کا حسن ہے ملک بالخصوص بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے صوبے میں جو بھی حکومت رہی اس نے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا آئندہ انتخابات میں تبدیلی نظر آئے گی بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی اگر جمہوری انداز میں ہوئی تو ہم اس کو بہتر سمجھتے ہیں ملک میں نظریاتی کارکنوں کواہمیت نہیں دیتے یوٹرن کی سیاست سے ملک میں انتشار پھیلے گا عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگا تے ہیں مگر اپنی جماعت میں تمام سیاسی جماعتوں کے افراد کو اکٹھے کئے ہوئے ہیں عمران خان کی سیاست میں آنے سے شائستگی ختم ہو گئی عمران خان کو امید کی کرن سمجھنے والے مایوس ہے وفاق میں جاری کشمکش کے باعث چھوٹوں صوبوں کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے صوبوں اور مرکز کے درمیان نیا عمرانی معاہدہ ہونا چا ہئے تاکہ عوام کے مسائل حل ہو سکے اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کسی صورت قابل قبول نہیں بعدازاں آفتاب احمد خان شیر پائو نے پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کرتا ہوںکوئٹہ شہر دہشتگردی کی زد میں ہے جب تک ملک میں امن نہیں آتا ملک ترقی نہیں کرسکتا الیکشن قریب آتے ہی دہشگردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے نیشنل ایکشن پلان پر عملدآمد کی ضرورت ہے ہمسایہ ممالک افغانستان اورایران کے ساتھ بہتر تعلقات کی ضرورت ہے صوبوں کے حقوق کی پاسداری کرنی ہوگی وفاقی حکومت دو رائے پر مفلوج ہوکررہے گی ہے افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات میں فقدان ہے بے یقینی کی صورتحال ختم کرکے الیکشن کی تیاری کی جائے بجٹ 3ماہ کا پیش کیا جائے سیاسی تناو ملک کے لئے سازگار ثابت نہیں ہوگاموجودہ حکومت خود کہہ رہی ہے کہ پارلیمنٹ بے بس ہے موجودہ صورتحال میں الیکشن مشکل ہوتا نظر آرہا ہے ن لیگ سیاسی پارٹیوں کوساتھ لیکر نہیں چلی فاٹا کو خیبر پختونخواہ میںضم کی جائے۔