بجلی کے نرخوں میں اضافہ سے صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا

صنعتوں بالخصوص برآمدی صنعت کے لئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کی جائے، آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی کا بیان

جمعرات اپریل 18:46

بجلی کے نرخوں میں اضافہ سے صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) آل پاکستان بزنس فورم نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت ڈیسکوز کو سہولت فراہم کرنے کے لئے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی ای) کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ تجویز کرنے کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے کہا ہے کہ صنعتوں بالخصوص برآمدی صنعت کے لئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کی جائے۔ جمعرات کو جاری کردہ اپنے بیان میں آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے کہا کہ برآمدی صنعت کاروباری لاگت میں اضافہ کے باعث انتہائی مشکل میں ہے اور تباہی کے دھانے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے کاروبار مخالفت اقدامات مینوفیکچرنگ سیکٹر کی نمو میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی مشینری ہمیشہ نجی شعبہ کو اپنے بیڑے میں شامل کرنے کی خواہاں ہوتی ہے لیکن وہ کسی بھی تجارتی و صنعتی ادارے کے ساتھ فیصلہ کرتے وقت مشاورت نہیں کرتی۔

(جاری ہے)

آل پاکستان بزنس فورم کے صدر نے کہا کہ یہ اقدام غربت کے خاتمے اور اقتصادی بحالی کے تجویز کردہ پلان کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کے لئے اوسط الیکٹرسٹی ٹیرف خطے میں 10 سینٹ سے کم ہے جبکہ پاکستان میں یہ 14.4 سینٹ ہے۔ اسی طرح چین،، بھارت،، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں پاور ٹیرف لاگت بالترتیب 8.5 سینٹ، 11.3 سینٹ، 7.3 سینٹ اور 9.3 سینٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو پہلے ہی امن و امان کی خراب صورتحال، ٹیکسوں میں عدم توازن اور گیس کی سپلائی میں کمی اور اب پاور ٹیرف میں اضافہ کا سامنا ہے جس سے ریونیو اور برآمدات مزید نشانہ بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی پی پی اے نے مارچ کے مہینے کے لئے ریفرنس فیول چارجز 6.65/kWh پر 0.4437/kWh اضافہ تجویز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیسکوز کے لئے اوسط بجلی کے نرخوں میں 45 پیسے فی یونٹ کا اضافہ صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد کا اضافہ بوجھ ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی تجارتی خسارہ مزید بڑھ رہا ہے کیونکہ درآمدات میں اضافہ اور ملک میں کاروباری اخراجات کے اضافہ کی وجہ سے برآمدی نمو میں کمی انتہائی بدقسمتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ اچھالا گیا ٹیکسٹائل پیکیج اتنا موثر ثابت نہیں ہوا اور پنجاب کی برآمدی صنعت پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے جس کو کاروباری لاگت جیسے اضافہ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے کاروبار دوست اقدامات سے صنعت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جس سے اس کی پیداوار بڑھے گی اور متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ اہم فیصلہ کرتے وقت شراکت داروں سے مشاورت کو یقینی بنائیں۔

ابراہیم قریشی نے کہا کہ ہماری صنعت تیزی سے بند ہونے کے مقام تک پہنچ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک بھر میں بجلی اور گیس کی قیمتوں کے حوالے سے یکساں پالیسی اپنائے کیونکہ یوٹیلٹیز کی قیمتوں میں تضاد کے باعث پنجاب کی صنعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ۔