اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی، ٹرمپ کے اعلان القدس کے بعد سے اب تک 94 فلسطینی شہید کردیئے گئے

جمعرات اپریل 19:30

مقبوضہ بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظررکھنے والے ایک ادارے کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 6دسمبر 2017ء کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کے امریکی اعلان کے بعد اب تک 94 فلسطینیوں کو اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں شہید کر دیا گیا ہے۔القدس اسٹڈی سینٹر کے اعدادوشمار کے مطابق اعلان القدس کے بعد اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں اب تک سو کے قریب فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں ’حق واپسی‘ مارچ کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں 41 فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ ان میں دو معذور جبکہ پانچ مزاحمتی تربیت کے دوران شہید ہوئے۔رپورٹ کے مطابق اعلان القدس کے بعد امریکی اعلان کے بعد اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں 10 عسکری کمانڈر جبکہ باقی عام شہری شہید ہوئے۔

(جاری ہے)

شہدا ء میں دو خواتین،18 بچے اور دو قیدی بھی شامل ہیں۔

خلاف اور دفاع القدس کیلئے سب سے زیادہ جانی قربانی اہلیان غزہ کی طرف سے دی گئی جہاں 6دسمبر سے 18جنوری 2018ء تک غزہ میں 76 شہریوں کے جنازے اٹھائے گئے۔ ان میں دو فلسطینی مزاحمتی کمانڈر بھی شامل ہیں۔ جن میں 41 شہداء تحریک حق واپسی شامل ہیں۔شہداء تحریک دفاع القدس میں نابلس کے 7، الخلیل سے اور جنین سے 6، اریحا، رام اللہ، سے 2,2، قلقیلیہ اور القدس سے ایک ،ایک فلسطینی شہید ہوا۔عمر کے اعتبار سے 11 سال کے بچے سے ساٹھ سال کی عمر کے افراد کے شہداء شامل ہیں۔ شہداء میں 18 سال کی عمرکے 11 بچے شامل ہیں۔ ان میں 14 سالہ محمد سامی الدحدوح کا خون بھی شامل ہے۔شہداء القدس میں حمدہ اور وھش الزبیدات کی عمریں 75 سال ہے۔ شہداء القدس میں 9 سالہ دلال دیب لولح کا تعلق نابلس سے ہے۔