حکومت کو صحت کے شعبے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جنرل سیکریٹری پی پی اے ڈاکٹر خالد شفیع

جمعرات اپریل 19:45

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) پاکستان پیڈیا ٹرک ایسوسی ایشن (پی پی ای) کے جنرل سیکٹری ڈاکٹر خالد شفیع نے کہا ہے کہ حکومت کو صحت کے شعبے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ڈاکٹرز اپنی کارکردگی بہتر کر لیں تو اس شعبے میں نمایاں بہتری نظر آئے گی، بروقت ویکسینیش سے بچوں کو 10 جان لیوا بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کوٍ’’ورلڈ امیونائزیشن ویک‘‘ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ٹریئیر پی پی اے ڈاکٹر ایم این لال اور چئیرمین پی پی اے کراچی ڈاکٹر جمیل اختر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈاکٹر خالد شفیع نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی 24 سے 30 اپریل تک ورلڈ امیونائزیشن ویک منایا جا رہا ہے جس کا مقصد والدین میں آگاہی پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کو مہلک امراض سے بچائو کے لئے بروقت ویکسینیشن کروالیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے حکومت پاکستان کی طرف سے 10 بیماریوں سے بچائوکے 30 ہزار روپے مالیت کی ویکسنز مفت پلائی یا لگائی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ویکسی نیشن کی شرح 50 فیصد سے زیادہ نہیں جو ہمارے لئے حوصلہ افزاء بات نہیں ہے بلکہ ملک کے کچھ علاقوں میں یہ شرح 30 سے 40 فیصد تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ بچوں میں ویکسینیش کی کوریج کو 80 فیصد تک بڑھایا جائے کیوں کہ جتنی کوریج زیادہ ہوگی اتنی بیماریاں کم ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ویکسینیشن کی شرح کو بہتر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہمارا اگلہ ہدف تھا کہ ہم بچوں میں کینسر، وراثتی بیماریوں پر کام کریں تاکہ ان کا جڑسے خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا ہماری آواز بنے ہم چاہتے ہیں کم خواندہ والدین کو مکمل آگاہی فراہم کی جائے اور وہ بچوں میں مہلک امراض سے بچائوکے لئے بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو صحت کے شعبہ میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹرز اپنی کارکردگی کو بہتر کرلیں تو اس شعبہ میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر جمیل اختر نے کہا کہ ہمارے ہاں پیدا ہونے والے ایک ہزار بچوں میں سے 10 فیصد بچے زندگی کی پہلی بہار دیکھنے سے پہلے ڈائریا اور نمونیاں کی وجہ سے انتقال کر جاتے ہیں کیوں کہ ان کے والدین نے بچے کی پیدائش کے بعد ویکسینیشن نہیں کرائی ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ان مسائل پر قابو پانے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ایم این لال نے کہا کہ ویکسینیشن کی سب سے زیادہ شرح پنجاب میں ہے جبکہ سندھ دوسرے، کے پی کے تیسرے اور بلوچستان چوتھے نمبر پر ہے۔