پنجاب بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات میں ڈی ٹی پی بوسٹر ویکسین شامل کرنے والا پہلاصوبہ بن گیا‘خواجہ عمران نذیر

ڈی ٹی پی بچوں کو کالی کھانسی ، تشنج اور خصوصاً خناق سے بچائو کا اہم زریعہ ثابت ہوگا‘چند سال کے دوران صحت کے شعبے میں ہونے والے انقلابی اقدامات کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی-‘صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ

جمعرات اپریل 19:45

پنجاب بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات میں ڈی ٹی پی بوسٹر ویکسین شامل کرنے والا ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ پنجاب میں صحت کے دو محکمے بنانے کے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے دور اندیش فیصلے نے پنجاب کے صحت کے شعبے پر حیران کن نتائج مرتب کئے ہیںاور پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے قیام کی بدولت آج عوام کو بہتر بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ، بیماریوں کی روک تھام کے پروگرام پر موثر طریقے سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

وزیر صحت نے مزید کہا کہ اب ہماری توجہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے تاکہ علاج معالجے پر اٹھنے والے کروڑوں روپے بچائے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سال کے دوران صوبہ پنجاب میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں متعدد ویکسین شامل کی ہیں اور آج ڈی ٹی پی بوسٹر ویکسین کی لانچنگ سے پنجاب ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے یہ بوسٹر ڈوز متعارف کرائی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں ای پی آئی پروگرام میں خناق، کالی کھانسی اور تشنج سے بچائو کے لئے ڈی ٹی پی بوسٹر ویکسین ڈوز کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سکریٹری ہیلتھ علی جان خان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر منیر احمد، محکمہ پرائمری ہیلتھ کے سینئر افسران، انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے نمائندوں کے علاوہ ہیلتھ ورکرز اور ویکسنیٹرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ چھوٹے بچوں کو 6، 10اور 14ہفتوں کی عمر میں خناق ، کالی کھانسی وغیرہ سے بچائو کی ویکسین لگائی جاتی ہے تاہم، جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان میں مذکورہ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے چار۔پانچ سال کی عمر میں بچوں کو ڈی ٹی پی کی اضافی خوراک دینا انتہائی ضروری ہے۔وزیر صحت نے کہا کہ حکومت نے خناق ،کالی کھانسی اور تشنج سے ہونے والی بچوں کی اموات پر قابو پانے کے لئے یہ بوسٹر ڈوز متعارف کرائی ہے ۔

ڈی ٹی پی بوسٹر نہ صرف خناق کے تدارک بلکہ کالی کھانسی اور تشنج سے بچائو کا اہم زریعہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس کام کے لئے 500ملین روپے مختص کئے ہیں اورگذشتہ چند سال کے دوران صحت کے شعبے میں ہونے والے انقلابی اقدامات کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ چاروں صوبائی حکومتوں کو سیاسی اختلافات سے بالا تر ہوکر پاکستان کی نئی نسل کو صحت مند رکھنے کے لئے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے جن میں پولیو ، غذائیٹ کی کمی ، ماں اور بچہ کی شرح اموات پر قابو پانے کے لئے اقدامات ضروری ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر گھر جاکر لوگوں کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں جن سے ان کا خونی رشتہ نہیں ہوتا، لیکن یہ بات قابل افسوس ہے کہ بہت سے والدین پولیو کے قطرے پلانے اور ڈینگی سرویلنس کے لئے آنے والی ٹیموں کے ساتھ کچھ اچھا برتائو نہیں کرتے ۔ خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ یہ والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحت کے لئے اپنی ذمہ داری کو پورا کریں۔

اس موقع پر یونیسیف کے نمائندے مسٹر ڈگلس ، ڈبلیو ایچ او پنجاب کے نمائندے ڈاکٹر جمشید اور ڈاکٹر راول بونیفیسونے ڈی ٹی پی بوسٹر ڈوز ، ای پی آئی پروگرام میں شامل کرنے پر حکومت پنجاب کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے صوبے میں صحت کے شعبے کی ترقی اور بیماریوں کی روک تھام کے سلسلے میں نہایت اہم اقدامات اٹھائے ہیں اور ڈی ٹی پی بوسٹر ویکسین کی لانچنگ سے ہزاروں بچوں کی جانیں بچانے میں مدد ملے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سکریٹری ہیلتھ علی جان خان نے کہا کہ گذشتہ دوسال کے دوران پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں ڈزیز پریونشن کے لئے ٹھوس انفراسٹرکچر فراہم کردیا ہے جس پر آنے والے دنوں میں عمارت تعمیر کرنا نہایت آسان ہوگا۔ دریں اثناء اس موقع پرخواجہ عمران نذیر نے معروف فوٹوگرافر عامر خان کی پولیو کی روک تھام اور پولیو ہیلتھ ورکر ز کی سرگرمیوں پر مشتمل فوٹوگرافی کی نمائش کا بھی افتتاح کیا اور عامر خان کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ فوٹوگرافی نمائش میں پچاس تصاویر رکھی گئی ہیں۔ تقریب کے شرکاء نے تصاویر میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے عامر خان کو تعریفی سرٹیفکیٹ بھی دیا۔