قرآن کا پیغام آفاقی ہے سائنسی علوم کو قرآنی نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، مقررین

نوجوان نسل کو سوال کرنے کی جانب راغب کرنا ہوگا،سائنسی علوم کی پذیرائی انتہائی ضروری ہے مگر یہ بھی جاننا چاہئے کہ یہ کلی علوم نہیں،سائنس ہماری زندگی کو ٓسان کر سکتی ہے مگر کسی نظریہ، ضابطہ حیات یا اخلاقی اقدار کو جنم نہیں دے سکتی،اسلام اور سائنس کے مابین تعلق پر مکالمہ آج کی ضرورت ہے ،سیمینار سے خطاب

جمعرات اپریل 19:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) مسلم مفکرین کی سائنس بارے تحقیق اور عصرِ حاضر کے تقاضے کیلئے یونیورسٹیز میں چئیرز قائم کی جائیں جو سائنسی فکر کو مغرب کے سانچے میں دیکھنے کی بجائے اسلامی تناظر میں دیکھنے کی پالیسی مرتب کریں ۔ ان خیالات کا اظہار مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام سیمینار - - ’’ ِ سائنس اور روحانیت : اسلام کے تناظر میں‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ماہر اقبالیات وفلسفہ پروفیسر ڈاکٹر سہیل عمر ، ڈین نیچرل سائنسز فارمن کرسچن کالج یونیورسٹی ڈاکٹر دلدار علوی، چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی، یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب سے ڈاکٹر عاصم رضا، پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج راولپنڈی ڈاکٹر عالیہ سہیل خان ، پرفیسر ادریس آذاد، ڈاکٹر چئیرمین تقابلِ ادیان اسنترنیشنل اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر قیصر شہزاد، ڈاکٹر زیڈ ۔

(جاری ہے)

اے اعوان اور قائداعظم یونیورسٹی سے علی شہباز نے کیا ۔ سیمینار دو سیشنز پر مشتمل تھا پہلا سیشن نظریاتی مطالعہ جبکہ دوسرے سیشن میںمسلمان فلاسفہ و سائنسدانوں کی سائنسی علمی و فلسفیانہ خدمات ونظریات کا حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں جائزہ تھا۔ مقررین نے کہا کہ سوال ترقی اور جدیدیت کی جانب پہلا قدم ہوتا ہے سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کا کلچر عام کرنے کی ضرورت ہے علم کے نئے در سوال سے کھلتے ہیں ، ہم ایک خوش نصیب قوم ہیں جن کے اجداد نے علم کی ترویج و اشاعت میں بے تحاشا کام کیا اور اپنے وقت میں سائنس کی جانب سے مذہب پر اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیئے آج ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عصرِ حاضر میں مذہب اور مابعد الطبیعاتکے مطالعہ کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل جدید علوم یا مذہب سے روگردان نہ ہو ۔

مقررین نے کہا کہ اگر ہم مغرب کے سائنسدان اور فلاسفہ کا جائزہ لیں تو وہ بھی مسلم فلاسفہ کی تعریف و توصیف کرتے نظر ٓئیں گے۔ ہمیں جدید خطوط پر کام کرنے کی ضرورت ہے ، ہمارے سکولز، مدارس اور ادارے ابھی تک پرانی طرز پر چل رہے ہیں ہمیں اپنے علمی و پالیسی سازاداروں میں اپنے اجداد کی فکر سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے ۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فقط سائنس خود غرضی سکھاتی ہے جبکہ مذہب کائنات کی تسخیر کے ساتھ ساتھ اخلاقیات پر بھی زور دیتا ہے دونوں کا ساتھ ہونا ضروری ہے ۔

مقررین نے مزید کہا کہ اسلام اور سائنس میں تصادم نہیں بلکہ سائنس کے طلباء کو سوشل سائنس اور روحانیت کے کورسز لازمی پڑھانے چاہیں تاکہ ان کی توانائیاں مثبت سمت میں گامزن رہیں مقررین نے کہا کہ ہمارے اداروں میں مغرب کے تیار کردہ نصاب پڑھائے جاتے ہیں جبکہ قرآن کی تعلیمات اور عالمِ اسلام کے بڑے فلاسفہ کوپسِ پشت ڈال دیا گیا ہے ۔ ہمارے اجداد نے قرآن سے آزاد انہ تحقیق کر کے علم اور ترقی کا سفر کیا ۔

ہمیں اپنا سائنسی نصاب بھی ا پنے مسائل اور درپیش چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن اور اکابرین کی تعلیمات کی روشنی میں ترتیب دینا چاہیئے ۔ قرآن کلامِ الہی ہے جو کہ وقت اور علاقے کی قید سے آزاد ہے اس لئے ہر دور میں ہر علاقے کے انسانوں نے اس سے رہنمائی لی ہے۔ شیخ ابن عربی، امام غزالی اور علامہ اقبال جیسے مفکرین کی تعلیمات کو سمجھ کر عصرِ حاضر میں سائنس اور مابعدالطبیعات کے موضوعات بحث کو ٓگے بڑھایا جانا چاہئے۔ امام غزالی کے متعلق جتنے غلط نظریات پھیلائے گئے ہیں ان کا جواب دیتے ہوئے ان کے ایسے نظریات کو سامنے لانا چاہئے جہاں انہوں نے ریاضی اور منطق کی تعریف کی ہے بلکہ سائنسی علوم حاصل کرنا فرض کفایہ قرار دیا ہے۔