سول جج کا تحریری امتحان پاس کرنے والی خاتون امیدوار کی انٹرویو میں فیل کرنے پر چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کی اپیل

جمعرات اپریل 20:22

لاہور۔26 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) تین مرتبہ سول جج کا تحریری امتحان پاس کرنے والی خاتون امیدوار نے بار بار انٹرویو میں فیل کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ہونے والے سول ججز کے تحریری امتحان کیلئے چھ ہزار پانچ سو اڑتیس امیدواروں میں سے کل اکیس امیدوار پاس ہوئے، امتحانی کمیٹی نے انٹرویومیں سولہ امیدواروں کو پاس جبکہ نابینا امیدوار یوسف سلیم ،خاتون امیدوار شاہین نور سمیت پانچ امیدواروں کو فیل کر دیا،انٹرویو میں فیل ہونے والی امیدوار شاہین کرن نے کہا ہے کہ انٹرویو کمیٹی نے ان سے عمومی سوالات کئے مگر قانون سے متعلق ایک بھی سوال نہیں پوچھا اوربغیر جواز کے فیل کر دیا،انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا از خود نوٹس لیا جائے کیوں کہ اوپن میرٹ کے علاوانٹرویو میں خواتین کے مخصوص کوٹے کو بھی نظر انداز کیا گیاہے، انہوں نے بتایا کہ اب تک تین مرتبہ سول جج کے ہونے والے تحریری امتحانات پاس کئے مگر انٹرویو میں ہر بار فیل کر دیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ پچھلے دو امتحانات میں دو مضامین تھے مگر اس مرتبہ سات مضامین اور سخت ترین تحریری امتحان کے باوجود انہیں انٹرویو میں عمومی سوالات کے جوابات کے باوجود فیل کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں میرٹ پر یقین رکھتی ہوں میرے ساتھ ناانصافی کی گئی،،چیف جسٹس میرے ساتھ انصاف کریں،انٹرویو میں غیر متعلقہ سوالات پوچھے جانے پر نابینا امیدوار یوسف سلیم کی اپیل پر چیف جسٹس پہلے ہی از خود نوٹس لے چکے ہیں،،چیف جسٹس نے نابینا امیدوار یوسف سلیم کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کی امتحانی کمیٹی کوبھجواتے ہوئے دوبارہ انٹرویو کرنے کا حکم دیا ہے۔