باچا خان میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام ورکشاپ

جمعرات اپریل 20:30

مردان۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) نوزائیدہ اور وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کی آنکھوں کا اگر بروقت معائنہ نہ کیا جائے تو ایسے بچوں میں سے دس فیصد کی بینائی کمزور یا بعض صورتوں میں بینائی مکمل طور ختم ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہسپتاولوں میں بچوں کی نگہداشت سے متعلق ڈاکٹروں ، نرسز اور دیگر سٹاف کی اس حوالے سے خاص تربیت کی جائے اور ایسے بچوں کا ماہر ین امراض چشم سے معائنہ کرایا جائے تاکہ ان کا بروقت علاج کرکے اس کو اندھے پن سے بچا یا جائے۔

یہ بات ماہرین نے مردان میڈیکل کمپلکس /باچا خان میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام ریٹانوپیتھی کے سکریننگ پروگرام کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

مقررین میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ سیٹھی ، ایم ایم سی کے پر وفیسرڈاکٹر ضیا ئ محمد ،،ڈاکٹر محمد طارق اورڈاکٹر محمد قاسم ، الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی کی پروفیسر ڈاکٹر صورت نورانی اور ڈاکٹر عمر میاں شامل تھے۔

مقررین نے کہا کہ نوزائیدہ اور باالخصوص 35 ہفتے سے کم مدت میں پیدا ہونے والے بچوں کی سکریننگ انتہائی ضروری ہے کیونکہ ان کے آنکھوں کے پرودوں کی بناوٹ مکمل نہیں ہوتی اور ایسے بچے عمومی طور پر کم وزن ہوتے ہیں اور ان کو انکوبیٹرز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے اگر پیدائش کے فوری بعد ان کی سکریننگ کرکے ان کا علاج کیا جائے تو ان کو اندھے پن سے بچا یا جاسکتا ہے۔ورکشاپ سے اپنے خطا ب میں ڈاکٹر ضیائ محمد نے کہا کہ مردان میڈیکل کمپلکس میں ایسے بچوں کے معائنے کی سہولت موجود ہے۔اٴْنہوں نے قبل از وقت اور کم وزن بچوں کے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو اندھے پن سے بچانے کے لیے پیدائش کے فوری بعد ایم ایم سی کے شعبہ امراض چشم سے ان کا معائنہ کرائیں۔

متعلقہ عنوان :