بھارتی فوجی حکومت کی ایماپر صحافیوں کی نشانہ بنا رہے ہیں، رپورٹ

جمعرات اپریل 20:39

سری نگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران چھ لاکھ کشمیری قتل کر دیئے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے یہ بات ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں ایک شہید نوجوان کی نماز جنازہ کے شرکا سے سرینگر میں اپنے گھر سے ٹیلیفونک خطاب کے دوران کہی۔

سید علی گیلانی کو قابض انتظامیہ نے گزشتہ آٹھ برس سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے فوجی طاقت کے بل پر کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ طاقت کے نشے میں چور بھارت ایک طرف عالمی دہشت گردی سے لڑنے کا راگ الاپ رہا ہے لیکن دوسری طرف اس نے مقبوضہ کشمیر میں خوف و دہشت کی لہر پھیلا رکھی ہے۔

(جاری ہے)

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور تحریک حریت جموںوکشمیر کے جنرل سیکرٹری محمد اشرف صحرائی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ہٹ دھرمی پر مبنی بھارتی رویہ تنازعہ کشمیر کے پر امن حل میں بنیادی رکاوٹ ہے ۔ حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کے جبر وا ستبداد کی وجہ سے کشمیری نوجوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہیں۔

ضلع اسلام آباد کے علاقے لزبل میں بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک شہری شفیق احمد شاہ نامی شہید ہو گیا۔ شوپیاں کا رہائشی شفیق شاہ بھارتی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے اہلکاروں کی فائرنگ میں زخمی ہوگیا تھا اسے فوری طورپر قریبی ہسپتال لے جایاگیا جہاں و ہ زخموں کی تا ب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا ۔ادھربھارتی فوجیوںنے اسلام آباد میں اسلامک یوینورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی اونتی پورہ میں گھس کر آنسو گیس ، گولیوں اور پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال کیا جس سے بیسیوں طلباء زخمی ہو گئے ۔

فوجیوں کی کارروائی کے خلاف یونیورسٹی کیمپس میںبھارت مخالف مظاہرے کئے گئے۔ طلباء نے ’’ہم کیا چاہتے آزادی ، جیوے جیوے پاکستان اور ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ‘‘جیسے نعرے بلند کئے ۔ گورنمنٹ ہائیر سکینڈر سکول کنگن کے طلباء نے کٹھوعہ کی ننھی بچی کی بے حرمتی اور قتل کے خلاف گاندر بل میں سرینگر لیہ شاہراہ پر پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا۔

نامعلوم حملہ آوروںنے سرینگر کے نواحی علاقے میں بھارتی پولیس کی چوکی پر حملہ کر کے چار اہلکاروں سے انکی سروس رائفلیں لیکر فرار ہو گئے۔دریں اثناء آزادی صحافت کے بارے میں بین الاقوامی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوںکی ادائیگی میں شدید مشکلا ت کاسامنا ہے کیونکہ بھارتی فوج اپنی حکومت کی ایما پر کشمیری صحافیوں کو نشانہ بنارہی ہے ۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ غیر ملکی صحافیوںکے مقبوضہ کشمیر جانے پر قدغن عائد ہے اور انٹرنیٹ سروس بھی اکثر معطل رہتی ہیں۔ رپورٹ جسے ’’نریندر مودی کی قومیت پسندی کے تباہ کن خطرے‘‘کا عنوان دیا گیا ہے میں خبردار کیاگیا ہے کہ 2014میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہندو انتہا پسندوںکا صحافیوں ساتھ رویہ مزید پرُ تشدد ہو گیا ہے ۔ آزادی صحافت کی180ممالک کی درجہ بندی میں بھارت کو 138ویںنمبر پر رکھا گیا ہے اورصحافیوں کے خلاف تشدد بھارت کی درجہ بندی میں تنزلی کی بنیادی وجہ ہے ۔