بے رحمانہ طریقے سے قتل کی گئی 9 سالہ بچی صائمہ جروار کے واقعہ کا مقدمہ 2نامعلوم افراد کے خلاف درج

جمعرات اپریل 20:44

لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) لاڑکانہ شہر کے تھانہ حیدری کی حد میں بے رحمانہ طریقے سے قتل کی گئی 9 سالہ بچی صائمہ جروار کے واقعے کا مقدمہ ان کے والد نسیم جروار کی مدعیت میں دو نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے جس میں اغوا اور قتل کے دفعات شامل ہیں جبکہ مقدمے میں دہشتگردی کے دفعات شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے واقعے میں ملوث نامعلوم ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی ہے جبکہ گرفتار کیے گئے دو مشکوک خواتین سمیت پانچ افراد سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔

دوسری جانب ایس ایس پی لاڑکانہ تنویر حسین تنیو نے معاملے کے متعلق ایک انکوائری ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ بے رحمانہ طریقے سے قتل کی گئی 9 سالہ بچی صائمہ جروار کے ورثا نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب واقعے کے خلاف چائلڈ رائیٹس ایڈووکیسی نیٹ ورک اور سول سوسائٹی کی جانب سے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

اس موقع پر سید جاوید شاہ، نثار مغیری، قادربخش کمانگر، استاد گل دایو، یاسر جتوئی، ایاز جعفری، لیاقت چنہ اور دیگر نے صائمہ جروار کے بے رحمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ معصوم بچی کو تشدد کرکے قتل کرنا انسانیت کو قتل کرنے کے برابر عمل ہے، قتل میں ملوث سفاک قاتلوں کو پولیس تاحال گرفتار نہ کرسکی ہے جس کے باعث ورثا انصاف کے منتظر ہیں۔ مظاہرین نے سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ صائمہ جروار کے واقعے کا ازخود نوٹس لے کر ورثا کو انصاف فراہم کیا جائے۔