بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی کے مخدوم سید افتخا ر حسن گیلانی کاجنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شمولیت کا اعلا ن

مظفر گڑھ سے مزید تین اراکین اسمبلی نے بھی استعفے دے کر جدوجہد میں ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے ‘ مخدوم خسرو بختیار استعفوں کی تصدیق کیلئے تیس اپریل کو قومی اسمبلی جائینگے، انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے‘ پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 21:35

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی کے رکن پنجاب اسمبلی مخدوم سید افتخا ر حسن گیلانی نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شمولیت کا اعلا ن کر دیا جبکہ محاذ کے کنوینر مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ مظفر گڑھ سے مزید تین اراکین اسمبلی نے بھی استعفے دے کر جدوجہد میں ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ مخدوم سید افتخار حسن گیلانی نے کینٹ میں واقع جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے دفتر میں مخدوم خسرو بختیار ،سردار بلخ شیر مزاری اور دیگر کے ہمراہ شمولیت کا اعلان کیا ۔

مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ ہماری رابطہ مہم جاری ہے اور مظفر گڑھ سے حکمران جماعت کے مزید تین اراکین نے استعفے دے کر ہماری جدوجہد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے جبکہ عنقریب مزید اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی ہماری جدوجہد میں شامل ہوں گے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان علاقائی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا ،جس بھی جماعت کے منشور کا پہلا نقطہ صوبہ جنوبی پنجاب ہوگا ہم اس کے ساتھ ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ لاہور ہمارا دوسرا گھر ہے لیکن دوسرے شہروں کا دبائو بڑھنے سے اس کے مسائل بڑھ رہے ہیں ،،دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں اس شہر کا دوسرا یا تیسر انمبر ہے ،اگر اس کا فضائی جائزہ لیا جائے تو یہ سیمنٹ کا جنگل نظر آتا ہے ۔جنوبی پنجاب میں محرومی ہونے کی وجہ سے لوگ اس طرف کا رخ کر رہے ہیں اور یہ مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسائل آواز بلند کرے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت دیگر مخالف قوتیں پاکستان پر نظر جمائے بیٹھی ہیں اور یہ اطلاعات ہیں کہ انتخابات میںپاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی ۔ جب نئے صوبے بنیں گے تو شہریوں کا ریاست کے ساتھ سوشل کنٹریکٹ ہوگا ۔ اب جو صورتحال ہے ہم اس سے زیادہ دیر تک آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے ۔ انہوںنے پیپلزپارٹی سے رابطے بارے سوال کے جواب میں کہا کہ میرا ے ساتھ باضابطہ کوئی رابطہ نہیں ہوا لیکن دوستوں سے رابطے ہوئے ہیں ۔

انہوں نے تحریک انصاف کیساتھ اتحاد اور ٹکٹوں کے حوالے سے سامنے آنے والی باتوں کو قیاس آرائی قرار دیا ۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی تحریک پیش کی جا چکی ہے اگر حکمران سنجیدہ ہیں تو صوبے کے قیام کے لئے عملی قدم اٹھائیں لیکن پندرہ روز گزرنے کے بعد بھی کوئی قدم نہ اٹھائے جانے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سنجیدہ نہیں ۔

انہوں نے اپنے استعفوں کی تصدیق بارے سوال کے جواب میں کہا کہ عوامی رابطہ مہم میں شریک ہونے کی وجہ سے استعفوں کی تصدیق کے لئے نہیں جاسکے تاہم 30اپریل کوصبح ساڑھے دس بجے تصدیق کے لئے قومی اسمبلی جائیں گے ۔انہوںنے کہا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے دیں پھر اپنے آئندہ کے حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم مربوط انداز میں انتخاب لڑیں اور ہمیں 46نشستوں پر پذیرائی ملے ۔

میر بلخ شیر مزاری نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی سے ملاقات ہوئی ہے تاہم ایک فوتگی کی وجہ سے ان سے مزید با ت نہیں ہو سکی ۔انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ ہماری جدوجہد کے ساتھ ہیں ۔ جو بھی جماعتیں اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں ہم نہ صرف انہیں خوش آمدید کہیں گے بلکہ ان کے شکر گزار بھی ہوں گے ۔مخدوم افتخار حسن گیلانی نے کہا کہ ہماری محرومیاں سب کے سامنے ہیں ۔ اس جدوجہد کی کامیابی کی صورت میں بہاولپور کو صوبائی ہیڈ کوارٹر ہونا چاہیے ۔