حکمرانوں نے گندم کے کاشتکاروں کو بھی آڑھتیوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ہے‘میاں مقصود احمد

حکومت شعبہ زراعت سے وابستہ افراد کو ہنگامی بنیادوں پر ریلیف فراہم کرے‘عوامی وفود سے گفتگو

جمعرات اپریل 21:54

حکمرانوں نے گندم کے کاشتکاروں کو بھی آڑھتیوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب اورامیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ حکومت نے گنے کے بعد گندم کے کاشتکاروں کو بھی آڑھتیوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ہے،کسان اونے پونے اپنی فصلیں فروخت کرنے پر مجبور ہیں،حکمرانوں کی ترجیحات میں شعبہ زراعت سے وابستہ افراد کو ریلیف فراہم کرنا شامل نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزلاہور میں عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ملک کی70فیصد آبادی شعبہ زراعت سے منسلک ہے مگر حکمرانوں نے اس شعبہ کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا۔جب تک کاشت کاروں کو ریلیف فراہم نہیں کیاجائے گا تب تک ان کی زندگیوں میں خوشحالی نہیں آسکتی۔حکمرانوں کی ساری توجہ سڑکوں کی توڑ پھوڑ پر مرکوزہوکر رہ گئی ہے۔

(جاری ہے)

حکومتی سطح پر 40لاکھ ٹن کی بجائی60ٹن گندم کی خریداری کا اعلان نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمرانوں کو کسانوں کے مسائل سے کوئی غرض نہیں۔انہوں نے کہاکہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اس اہم شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ہماراہمسایہ ملک بھارت بھی زراعت پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔۔ہندوستان اپنے ریگستانوں کو نخلستانوں میں بدل رہا ہے مگربدقسمتی سے پاکستان میں معاملہ بلکل الٹ ہے۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے اس سے قبل گنے کے کاشتکاروں کے حقوق کی جنگ لڑی ہے اور گندم کے کاشتکاروں کے لیے بھی بھر پورانداز میں آوازاٹھائے گی۔حکمرانوں نے اگر اپنی روش کونہ بدلاتواحتجاج کریں گے۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی عاقبت نااندیش پالیسیوں کی بدولت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص مایوس ہوچکا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ شعبہ زراعت سے وابستہ افراد کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔

میاں مقصود احمد نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ گندم باردانے کو اوپن کیا جائے اور وڈیروں،جاگیرداروں کے تسلط سے آزاد کیاجائے۔حکومت اس سال40لاکھ ٹن کی بجائی60لاکھ ٹن گندم کی خریدنے کا اعلان کرے اور گندم کو برآمد کرنے کی اجازت دے کر کسانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔