کراچی میں بڑھتا ہوا ٹریفک شہریوں کیلئے وبال جان بن گیا

آسان اقساط پر گاڑیوں کی دھڑا دھڑ فروخت کی وجہ سے نوعمر ڈرائیورز بھی شہرکی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑاتے ہوئے نظرآتے ہیں کراچی کی اہم شاہراہیں اپنی وسعت کے لحاظ سے ان گاڑیوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر،شہری حلقوں کا مربوط حکمت مرتب کرنے کا مطالبہ

جمعرات اپریل 22:02

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) کراچی کے بڑھتے ہوئے ٹریفک نے شہر میں حادثات میں اضافہ کردیا ہے ،حکومت سندھ اورمحکمہ ٹریفک کی جانب سے سے اقدامات نہ کیے جانے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا کراچی کے عوام کے لیے معمول بن گیا ،شہری حلقوں نے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی مرتب کرنے مطالبہ کیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں گزشتہ چند سالوں کے دوران گاڑیوں خصوصاً موٹرسائیکلوں کی فروخت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے ۔شہر میںٹریفک کے بڑھنے کی اہم وجہ سے آسان اقساط پر موٹر سائیکلوں کی فروخت بھی ہے ۔ماضی میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروںکی تعداد میں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بنائی جاتی تھیں اور فروخت نہ ہونے کی وجہ سے وہ پڑے پڑے اسکریپ میں تبدیل ہوجاتی تھیں ۔

(جاری ہے)

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گاڑیوں کی دھڑا دھڑ فروخت کی وجہ سے نوعمر ڈرائیورز بھی شہرکی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑاتے ہوئے نظرآتے ہیں جن کے پاس نہ تو ڈرائیونگ لائسنس موجود ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے ٹریفک قوانین سے آگاہی ہوتی ہے ۔ادھر شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں ۔۔کراچی کی اہم شاہراہیں اپنی وسعت کے لحاظ سے ان گاڑیوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر نظر آتی ہیں ۔

شہر میں ٹریفک جام معمول بنتا جارہا ہے جکہ حادثات میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ۔۔ٹریفک کے نظام رواں دواں رکھنے پر مامورپولیس اہلکار گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں سے لین دین میں مصروف نظر آتے ہیں ۔اس صورت حال میں شہریوں کو چند منٹ کا سفر بھی گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے جبکہ ایمبولینسوں کے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے مناظر بھی عام ہیں ۔دوسری جانب شہری حلقوں نے شہر میں ٹریفک کے بوسیدہ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی جیسے میگا سٹی میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے مربوط پالیسی مرتب کی جائے اوربڑھتے ہوئے ٹریفک کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

متعلقہ عنوان :