ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام ڈائریکٹر کالجز کانفرنس کا انعقاد،

ناقص نتائج دینے والے سرکاری کالجزکیخلاف سخت کارروائی کافیصلہ سرکاری کالجز کی انرولمنٹ میں اضافہ،زیر التواء پرموشن کیسز جلد مکمل کرنے ،زیادہ سے زیادہ طلبہ کے داخلے یقینی بنانے کی ہدایت اساتذہ کی ریگولرائزیشن وترقی، سکالرشپ اور تقرروتبادلوںکو ان تربیتی کورسز کے ساتھ لنک کر دیا ہے،سیکرٹری ایچ ای ڈی نبیل اعوان

جمعرات اپریل 22:09

لاہور۔26 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام ڈائریکٹر کالجز کانفرنس گزشتہ روزیہاں ایم اے او کالج میں منعقد ہوئی،کانفرنس میں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بیرسٹر نبیل اعوان،سپیشل سیکرٹری ایچ ای ڈی احسان بھٹہ،ڈی پی آئی کالجز پنجاب،،ڈائریکٹر کالجزلاہور ظفرعنایت انجم،ڈپٹی ڈائریکٹر زاہدمیاں سمیت صوبہ بھر کے 9ڈویژنل ڈائریکٹر کالجزاور37 ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز نے شرکت کی۔

کانفرنس میں ایف ای/ایف ایس سی اور بی اے /بی ایس سی کے نتائج میں بہتری کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا،کانفرنس میں اس بات کافیصلہ کیا گیا ہے کہ جن سرکاری کالجز کے نتائج ناقص ہوئے انکے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اورمتعلقہ کالج پرنسپل سے وضاحت بھی طلب کی جائے گی جبکہ جن تعلیمی اداروں کے نتائج بہترین ہوئے انکو انعامات سے نوازاجائے گا۔

(جاری ہے)

کانفر نس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کی روشنی میں سرکاری کالجز کی انرولمنٹ میں بھی اضافہ کیا جائیگااور اس سلسلے میں ایچ ای ڈی کی پالیسی کے مطابق زیادہ سے زیادہ طلبہ کے ایڈمیشن یقینی بنائے جائینگے۔کانفرنس میں سرکاری کالجزمیں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے بھی سیر حاصل بحث کی گئی اور اے ڈی پی سمیت جاری ترقیاتی سکیموں کو بھی بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کانفرنس میں لیکچررز،اسسٹنٹ پروفیسرز،ایسوسی ایٹ پروفیسرسمیت تمام کیٹیگری اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی پرموشن کے روکے ہوئے کیسز بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نبیل اعوان نے کہا کہ عالمی سطح پر تعلیم اور تدریس کے رجحانات بدل رہے ہیں ہمیں اپنی اساتذہ کرام کو ان بدلتے رجحانات کے مطابق تربیت دینا ہوگی تاکہ وہ کلاس روم میں سٹوڈنٹس کے اندر نہ صرف تنقیدی و تخلیقی صلاحیت پیدا کریں بلکہ انہیں اس معاشرے کا ایک ہنر مند اور کارآمد فرد بنانے میں اپنا اہم کردار اداا کر سکیں مگر اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے اساتذہ کو ٹریننگ دینا ہوگی جب ایک استاد خود باعلم باہنر اور قابل ہوگا تو وہ لازمی طور پر قابل اور اچھے طالبعلم ہی پیدا کرے گا۔

انہوںنے کہا کہ طلبہ کے سرکاری کالجوں میں داخلے کے لیے قائل کرنے کے لئے ان کی ضروریات کو سمجھنا ہوگا، لیکچرمیں ان کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں ان کے ساتھ نرم دلی پیار اور عزت سے پیش آنا ہوگا محنت لگن اور شفقت سے ہیں ہم طلباء کا سرکاری کالجوں پر اعتماد بحال کرسکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ اکرام کی تربیت کو باقاعدہ پرکھا جائے گا ایسی ہی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد اسسٹنٹ پروفیسر اورپروفیسر حضرات کے لیے بھی کیا جائے گا نیز اساتذہ کی ریگولرائزیشن وترقی سکالرشپ اور تقرروتبادلوںکو ان تربیتی کورسز کے ساتھ لنک کر دیا ہے اب وہی پروفیسرز لیکچررز پرموشن اور دیگر مفاد حاصل کرسکیں گے جنہوں نے تربیتی ورکشاپ میں حصہ لیا ہوگا۔