ْ کرپشن کی انتہاء 3بار مسمار کیا جانے والے فیض آباد کے غیر قانونی اڈے دوبارہ دھڑلے سے بنائے گئے

انکروچمنٹ سے سی ڈی اے کی اربوں روپے کی اراضی قبضے میں لی گئی مالکان سے کئی بار عدالتی احکامات پر قبضے واگزار کئے گئے لیکن ملی بھگت کی وجہ سے یہ اڈے ایک دن ختم کئے جاتے ہیں اور اگلے دن پھر تیار ہو جاتے ہیں ہائی کورٹ کے سخت احکامات پرسی ڈی اے کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے فیض آباد میں غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کے خلاف بھر پور کارروائی کر کے غیر قانونی تعمیر کیے جانے والے 06 ٹرانسپورٹ اڈوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے تعمیر کئے گئے بڑے شیڈز کو مسمار کر دیا گیا

جمعرات اپریل 22:12

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) کرپشن کی انتہاء 3بار مسمار کیا جانے والے فیض آباد کے غیر قانونی اڈے دوبارہ دھڑلے سے بنائے گئے انکروچمنٹ سے سی ڈی اے کی اربوں روپے کی اراضی قبضے میں لی گئی مالکان سے کئی بار عدالتی احکامات پر قبضے واگزار کئے گئے لیکن ملی بھگت کی وجہ سے یہ اڈے ایک دن ختم کئے جاتے ہیں اور اگلے دن پھر تیار ہو جاتے ہیں ہائی کورٹ کے سخت احکامات پرسی ڈی اے کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے فیض آباد میں غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کے خلاف بھر پور کارروائی کر کے غیر قانونی تعمیر کیے جانے والے 06 ٹرانسپورٹ اڈوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے تعمیر کئے گئے بڑے شیڈز کو مسمار کر دیا گیا۔

جمعرات کے روز کیے جانے والے تجاوزات کے خلاف مشترکہ آپریشن میں انفورسمنٹ ڈائیریکٹوریٹ کے تمام عملے کے علاوہ ڈی ایم اے ، انوائرنمنٹ ونگ، ایم پی او اور سی ڈ ی اے اور ایم سی آئی کے دیگر شعبوں نے شرکت کی جبکہ اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے بھر پور معاونت فراہم کی گئی۔

(جاری ہے)

تجاوزات کو گرانے کے لیے ہیوی مشینری کو استعمال کیا گیا ۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب فیض آباد کے مقام پر جن غیر قانونی ٹراسپورٹ اڈوں کے خلاف کاروائی کی گئی ان میں اسلام آباد ایکسپریس، شجاع ایکسپریس، راجہ ٹریویلزون ، راجہ ٹریویلز ٹو اور راجہ ٹریویلز تھری شامل ہیں۔آپریشن سے قبل ان غیر قانونی اڈوں میں پارک کی گئیں گاڑیوں کو نکال لیا گیا ۔ آپریشن کے دوران کچھ عناصر نے کارِ سرکار میں مداخلت کی کوشش کی تاہم انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کامیابی کے ساتھ اس آپریشن کو مکمل کر لیا۔

متعلقہ عنوان :