’’انسداد تشدد و انتہاء پسندی اور نظریاتی خودمختاری کے تحفظ کیلئے پاکستان کے امن اقدامات‘‘ کے موضوع پر سیمینار

جمعرات اپریل 22:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) قائداعظم یونیورسٹی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز (این آئی پی ایس) میں ’’انسداد تشدد و انتہاء پسندی اور نظریاتی خودمختاری کے تحفظ کیلئے پاکستان کے امن اقدامات‘‘ کے موضوع پر جمعرات کے روز سیمینار منعقد ہوا۔ ایک روزہ سیمینار کے دوران پرتشدد انتہاء پسندی کی روک تھام کے حوالے سے چیلنجز کی نشاندہی کی گئی جبکہ سیمینار کے شرکاء کو پیغام ء پاکستان کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے اس پیغام کے مندرجات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا تاکہ پرتشدد انتہاء پسندی کی موثر روک تھام اور پاکستان کے دہشت گردی کے انسداد کے لئے عملی اقدامات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔

سیمینار سے ڈائریکٹر جنرل اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ آئی آئی یو آئی ڈاکٹر ضیاء الحق، رکن قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم، سینئر ریسرچ فیلو احمد منیر، فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لاء ڈاکٹر مدثریا، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ڈاکٹر دلاور خان نے خطاب کیا۔

(جاری ہے)

سیمینار میں مباحثے کے دوران مطلوبہ مقاصد کو حاصل کیا گیا جن میں پرتشدد دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے درپیش چیلنجز کی نشاندہی کی گئی اور ان پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

سیمینار کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی و انتہاء پسندی کے انسداد کے لئے قانون کی حکمرانی پر موثر انداز میں عمل درآمد ضروری ہے۔ یہ بھی تجویز کیا گیا کہ نچلی سطح پر نوجوانوں کو ان مسائل سے نمٹنے کے لئے آگے آنا چاہئے جبکہ سوشل سائنٹسٹسکو اس عمل میں شریک کیا جائے تاکہ وہ معاشرتی سطح پر درپیش چیلنجوں اور ان کے تدارک کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ پیغام ء پاکستان کے مندرجات پر بھی تفصیلی بحث کی گئی اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انسداد انتہاء پسندی کے لئے اسے مفید قرار دیا گیا۔