سیکٹر جی تیرہ میں کمرشل پلاٹوں کی نیلامی میں کروڑوں روپے کی کرپشن

وفاقی سیکرٹریوں کو الاٹ کئے گئے 236پلاٹوں کی الاٹ منٹ کینسل کی جائے ، آڈیٹر جنرل کی حکومت کو سفارش

جمعرات اپریل 22:21

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ 22گریڈ کے افسران کو وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں 236پلاٹوں کی الاٹمنٹ فوری طور پر کینسل کی جائے اور یہ پلاٹ افسران سے واپس لیے جائیں جبکہ 14اعلیٰ افسران کو قواعد کے برعکس بھی پلاٹ الاٹ کیے گئے تھے ان کو بھی کینسل کیا جائے۔ وفاقی حکومت کو ارسال کی گئی ایک رپورٹ میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سفارش کی ہے کہ 22گریڈ کے وفاقی سیکرٹری نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے 236پلاٹ الاٹ کرائے تھے جس سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 3ارب 12کروڑ روپے کانقصان ہوا تھاجبکہ ایف جی فائونڈیشن کے 19افسران نے قواعد کے برعکس پلاٹ اپنے نام الاٹ کرائے ہیں جس سے قومی خزانے کو 14کروڑ 37لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔

(جاری ہے)

دستاویزات کے مطابق ان افسران نے حکومتی پالیسی کے برعکس ایک سے زائد پلاٹ حاصل کررکھے ہیں جبکہ وزیر اعظم سکیم کے تحت بھی ان وفاقی سیکرٹریوں نے اسلام آباد کے پوش سیکٹروں مین اپنے نام پلاٹ الاٹ کرائے تھے۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ یہ پلاٹ سی ڈی اے اور وزارت ہائوسنگ نے الاٹ کیے ہیں۔ قواعد کے برعکس الاٹ کرنے والے افسران کے خلزاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

ان غلط الاٹ منٹ سے مجموعی طورپر قومی خزانے کو 3ارب 25کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے ۔ یہ الاٹ منٹ کینسل کرکے قومی خزانے کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جاسکتا ہے ۔ آڈیٹر جنرل نے سفارش کی کہ اسلام آبطاد کے سیکٹر جی تیرہ کے کمرشل ایریا میں پلاٹ نمبر 2-Aاور 2-Bکی نیلامی میں افسران اور ریئل اسٹیٹ مافیا کے گٹھ جوڑ سے ایک کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ افسران نے پلاٹوں کی نیلامی میں زیادہ بولی کو مسترد کرکے بولی کم بولی پر یہ کمرشل پلاٹ دئیے تھے ۔ رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ ہائوسنگ فائونڈیشن نے فیز 5میں غیر قانونی طورپر الاٹمنٹ کرکے قومی خزانے کو 28کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا ہے اور اس سکینڈل کی جلد تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :