وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کی معاشی کارکردگی بارے اقتصادی سروے

2017-18ء پیش کر دیا رواں مالی سال شرح نمو5.8 ، افراط زر3.8، زرعی ترقی 3.81، صنعتی ترقی 5.8 اور بیروزگاری کی شرح 5.79 فیصد ، برآمدات 24 ارب 50 کروڑ ڈالر اور درآمدات 53ارب 10 کروڑ ڈالر رہی ہیں، وفاقی وزیر احسن اقبال کی مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 22:53

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کی معاشی کارکردگی بارے اقتصادی سروے 2017-18ء پیش کر دیاہے جس کے مطابق رواں مالی سال شرح نمو5.8 ، افراط زر3.8، زرعی ترقی 3.81، صنعتی ترقی 5.8 اور بیروزگاری کی شرح 5.79 فیصد ، برآمدات 24 ارب 50 کروڑ ڈالر اور درآمدات 53ارب 10 کروڑ ڈالر رہی ہیں۔جمعرات کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح 5.79 رہی جو گزشتہ 13 سال میں سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 18-2017 میں مہنگائی کی شرح 7.89 فیصد سے کم ہو کر 3.8 فیصد رہی، زرعی ترقی 3.81، صنعتی ترقی 5.8 اور بیروزگاری کی شرح 5.79 فیصد رہی۔انہوں نے کہا کہ جولائی سے مارچ تک مہنگائی کی اوسط شرح 3.78 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4.01 فیصد تھی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے افراط زر کو 7 سے 8 فیصد کے ایک ہندسے میں رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال صارفین قیمت انڈیکس بڑھ کر 4.6 فیصد پر آگیا جو رواں مالی سال کے آغاز سے زیادہ تھا۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال برآمدات 24 ارب 50 کروڑ ڈالر رہیں اور 180 ارب روپے کے پیکیج سے برآمدات میں اضافہ ہوا، اسی طرح مالی سال 18-2017 میں درآمدات میں بھی اضافہ ہوا اور یہ 53 ارب 10 کروڑ ڈالر رہیں۔انہوں نے کہا کہ2013 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ریونیو ایک ہزار 946 ارب روپے تھا، رواں سال اس کا ریونیو 3 ہزار 900 ارب سے زائد ہے، جبکہ موجودہ مالی سال میں 3900 ارب سے زائد کا ریونیو جی ڈی پی کا11 فیصد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ خسارہ 8.5 سے 5.5 فیصد کی سطح پر آچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ صرف تین ماہ کیلئے تنخواہوں میں اضافہ کیا یا ٹیکس میں کمی لائی جائے اور دیگر مالیاتی اقدامات تجویز کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ تو پورے سال کے اعداد و شمار کا تخمینہ ہوتا ہے اور آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنا منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے جو بھی سیاست کرلیں ہم بجٹ دیں گے جبکہ ہم نے بجٹ میں اگلی حکومت کے نئے منصوبوں کیلئے 100 ارب روپے مختص کر دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نیلم،جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، تربیلا فور توسیعی منصوبہ، 1320 میگاواٹ کا ساہیوال کول پاور پراجیکٹ، 1320 میگاواٹ پورٹ قاسم پاور پلانٹ اور ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کے حویلی بہادر شاہ جیسے منصوبے مکمل کئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کسی ایک دن میں بجلی کی ریکارڈ پیداوار کو بھی یقینی بنایا ہے۔انہوں نے کہا لواری ٹنل کا افتتاح بھٹو نے کیا لیکن اسے مکمل ہم نے کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2013ء میں اقتدار سنبھالا تو قومی معیشت اور ریاست بحرانوں کا شکار تھی بالخصوص توانائی کا شعبہ تباہ حال تھا اور امن و امان کی صورتحال ابتر تھی، معاشی بحران کی وجہ سے ملک خلفشار کا شکار تھا، ملک میں بے روزگاری عروج پر تھی، ملک کا معاشی حب کراچی بھتہ خوروں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا تھا، سرمایہ کار ملک چھوڑ کر جارہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جراتمندانہ اور دور رس نتائج کے حامل فیصلے کئے ۔ انہوں نے کہا کہ توانائی، معیشت، انتہا پسندی کا خاتمہ اور تعلیم وہ ’چار ایز‘ تھے جن کا ہم نے اپنے منشور میں ذکر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملکی ترقی کیلئے ایک فوری عملدرآمد اور دوسرا طویل المدت پلان ’وژن 2025‘ بنایا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے وسائل سے سکیورٹی آپریشنز شروع کئے، آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد سے پاکستان محفوظ ملک بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی ترقی کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان خطے کا بہترین ملک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال شرح نمو 5.8 فیصد رہی، اگر سیاسی بے یقینی کی صورتحال نہ ہوتی تو 6.1 فیصد کا ہدف بآسانی حاصل کر لیتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں توانائی کے شعبے میں ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی، گزشتہ چار سالوں میں قومی نظام میں گیارہ ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی گئی، پانچ سال میں 1750 کلومیٹر موٹروے کی تعمیر شروع کی گئی، پاکستان آج جنوبی ایشیاء کی سب سے نمایاں ترقی کرتی ہوئی معیشت بن چکا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے محصولات ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل اور متعلقہ اعلیٰ حکام بھی موجودتھے۔